کراچی اپریشن کی مخالفت ‘ پیپلزپارٹی سندھ میں گورنر راج کے حالات پیدا نہ کرے

ایڈیٹر  |  اداریہ
کراچی اپریشن کی مخالفت ‘ پیپلزپارٹی سندھ میں گورنر راج کے حالات پیدا نہ کرے

 ایم کیو ایم کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’آصف علی زرداری نے نائن زیرو چھاپے کی مذمت کی اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے تقدس کا احترام ہر ایک کو کرنا چاہئے۔ تاہم سابق صدر آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آصف علی زرداری نے ٹیلیفون پر ہونیوالی بات چیت میں اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دریں اثناء بدھ کو ہونیوالے سینٹ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کیخلاف واک آئوٹ کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر قیوم سومرو نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے دفتر پر حملہ کرنا غلط طریقہ کار ہے۔ رات کے اندھیرے میں سیاسی جماعتوں کے دفتر میں گھس کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ رینجرز کراچی میں اس طرح کسی سیاسی دفتر پر ریڈ نہیں کر سکتی۔ متحدہ قومی موومنٹ کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ فرحت اللہ بابر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز ایم کیو ایم کے دفتر کو کیوں نشانہ بناتی ہے اس پر تحقیقات ہونی چاہئے۔ رضا ربانی نے کہا کہ نائن زیرو پر چھاپہ قابل مذمت ہے۔ اگر کوئی اطلاع تھی تو ایم کیو ایم کی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ ایم کیو ایم کئی بار کہہ چکی ہے اسکا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے کہا ہے کہ مطلوب افراد نائن زیرو پر کیا کررہے تھے؟ مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے۔ مزیدبرآں کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے رینجرز ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا ‘ انہوں نے نائن زیرو پر کامیاب اپریشن پر رینجرز کو شاباش دی اور اپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
کراچی میں نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے دوران حراست میں لئے گئے عامر خان سمیت 28 ملزمان کو گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں سے ان کو 90 روز کے ریمانڈ پر رینجرز کی حراست میں دے دیا گیا۔ رینجرز ترجمان نے کہا تھا کہ عامر خان کو یہ جاننے کیلئے حراست میں لیا ہے کہ سزا یافتہ مجرم انکے ساتھ کیوں تھے اور ناجائز اسلحہ نائن زیرو پر کیسے پہنچا۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے نائن زیرو پر اپریشن کی واضح حمایت کی گئی ہے۔ متحدہ نے بار بار ممنوعہ اسلحہ کی بازیابی کی تردید کی ہے۔ متحدہ کے کئی لیڈر شاہ سے زیادہ شاہ سے وفاداری کاثبوت دے رہے ہیں۔ طاہر مشہدی دور کی کوڑی لائے کہ ہو سکتا ہے رینجرز صحافی کے قتل میں سزایافتہ مفرور کو اپنے ساتھ لائے ہوں مگر ہزاروں میل دور بیٹھے الطاف حسین کو نائن زیرو میں لمحہ بہ لمحہ سرگرمیوں کی خبر ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مطلوب افراد کہیں اور پناہ لیتے‘ نائن زیرو کو خطرے میں نہ ڈالتے۔ اس اعتراف کے بعد شک اور بحث کی گنجائش نہیں رہتی کہ یہ مجرم نائن زیرو میں موجود تھے‘ کیوں تھے؟ اس کا جواب عامر خان سے رینجرز نے حاصل کرلیا ہو گا۔
کراچی تیس سال سے بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے‘ متعدد بار سیاسی حکومتوں نے یہاں کامیاب اپریشن کرکے امن و امان بحال کرادیا جو حکومتوں کی تبدیلی اور مصلحتوں کے باعث عارضی ثابت ہوا اور مافیاز طاقتور ہوتے چلے گئے۔ آج لسانیت‘ فرقہ ورایت کے ساتھ ساتھ مذہبی لبادے میں موجود دہشت گرد بھی کراچی کی بدامنی سوا کئے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ستمبر 2013ء میں کراچی کے امن کی بحالی کیلئے کراچی کی تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں اور تنظیموں کے ساتھ مشاورت سے اپریشن کی منظوری دی جس کا آغاز سندھ حکومت کی سربراہی میں ہوا۔
متحدہ اور پی پی دونوں پارٹیاں جب اتحادی ہوتی ہیں تو ایک دوسرے کے جرائم کی پردہ پوشی کرتی ہیں اور اتحاد کے دائرے سے نکلتے ہی ایک دوسرے پر قتل و غارت‘ اغواء برائے تاوان‘ بھتے اور دہشت گردی تک کے زور و شور اور ثبوتوں کے ساتھ الزام لگاتی نظر آتی ہیں۔ دو اڑھائی سال قبل جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے آبزرویشن دی تھی کہ پی پی پی متحدہ اور اے این پی کے جنگجو ونگ حالات کو خراب کر رہے ہیں‘ ان کا خاتمہ کیا جائے مگر اس پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ زمام کار انہی پارٹیوں کے ہاتھ میں رہی تو اس کا امکان نظر بھی نہیں آتا۔ متحدہ اور پیپلزپارٹی میں تو لگتا ہے کراچی کو جرائم اور قتل و غارت گری سے پاک کرنے کی سرے سے Will ہی نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کی کل کی بیان بازی دیکھیں تو سیاسی مفادات کی اسیر اور بے اصولی پر کاربند دکھائی دیتی ہے۔ محض متحدہ قومی موومنٹ سے سینٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے آصف زرداری‘ فرحت اللہ بابر‘ قیوم سومرو اور رضاربانی نے بلاسوچے سمجھے متحدہ قومی موومنٹ کے شانہ بشانہ ہو گئے۔ سینٹ کے اجلاس سے دونوں نے مل کر واک آئوٹ کیا۔ آصف زرداری اور رضاربانی نے نائن زیرو پر چھاپے کی مذمت کی۔ سینیٹر قیوم سومرو اسے متحدہ کیخلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ متحدہ کے ساتھ چھاپے کے دوران کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اسکی غیرجانبدارانہ انکوائری ہو سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے رینجرز کو بلاتحقیق کٹہرے میں کھڑا کردینا اسکے اصولوں پر سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کے مترادف ہے۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے چھاپے سے قبل مرکزی وزارت داخلہ سے اجازت لی اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو اعتماد میں لیا۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے آصف زرداری کو اس اپریشن سے آگاہ کر دیا تھا۔ رضاربانی جو آج صدر ممنون حسین کی عدم موجودگی میں قائم مقام صدر کے منصب پر متمکن ہیں‘ انکی طرف سے یہ کہنا کتنا بچگانہ ہے کہ اگر کوئی اطلاع تھی تو متحدہ کی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ گویا متحدہ کی قیادت کو بتادیا جاتا کہ صبح 5 بجے رینجرز نائن زیرو پر چھاپہ مارے گی۔
پیپلزپارٹی کے آج متحدہ کی حمایت میں کھڑے ہونیوالے رہنمائوں کے بیانات نکال کر دیکھ لیں‘ یہ لوگ اپریشن کی حمایت کرتے نظر آئینگے۔ زرداری صاحب دو ہفتے قبل اس میٹنگ میں موجود تھے جس کی صدارت وزیراعظم نوازشریف نے کی۔ اس میں آرمی چیف جنرل راحیل بھی شریک ہوئے جس میں کراچی اپریشن تیز کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس وقت ان کا رینجرز پر اعتماد تھا۔ آج اعتماد کا پانسہ پلٹ گیا‘ اب متحدہ انکے قریب قابل اعتماد اور رینجرز سازشی نظر آتی ہے۔
 وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی سربراہی میں کراچی کے امن کی بحالی کا اپریشن جاری ہے۔ نائن زیرو پر چھاپے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی‘ وہ مطمئن ہیں۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت اس پر اعتراض کر رہی ہے تو اپنی صوبائی حکومت کی خبر لے۔ متحدہ کیخلاف اپریشن ہوا‘ اسکی طرف سے اعتراضات اور تحفظات تو سمجھ میں آتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کیوں اتنا سیخ پا ہو گئی؟ جب سندھ کی سیاسی حکومت پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے ایماء پر کراچی میں شروع کئے گئے اپریشن سے پسپائی اختیار کریگی تو پھر مرکزی حکومت کے پاس سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کے سوا کیا راستہ بچے گا؟ اس کا فائدہ متحدہ کو ہو گا نہ پیپلزپارٹی اور نہ ہی جمہوریت کو۔ بہتر ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اپنے اندر سے جرائم پیشہ افراد کو اِدھر اُدھر ہونے کے مشورے دینے کے بجائے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے حوالے کر دے۔ پیپلزپارٹی بھی معمولی سے سیاسی مفاد کی خاطر متحدہ کی بے جا‘ بلاتحقیق اور بغیر ثبوتوں کے حمایت کرکے اپنے پائوں پر کلہاڑی نہ مارے۔