بھارت میں پھر کشمیری طلباء کو قتل کی دھمکیاں

ایڈیٹر  |  اداریہ
بھارت میں پھر کشمیری طلباء کو قتل کی دھمکیاں

ہریانہ کے مقامی طلباء کی طرف سے مبینہ طور پر سازش کے تحت مقامی اخبارات میں جھوٹی خبر شائع کرانے کے باعث سینٹرل یونیورسٹی ہریانہ میں زیر تعلیم مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 35 طلباء اور سکالروں کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ کشمیری طلباء نے اپنے تحفظ کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سے اپیل بھی کی ہے۔
بھارت میں ایک مرتبہ پھر کشمیری طلباء کو ہراساں کرنیکا کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس سے قبل کشمیری طلباء نے کرکٹ میچ میں جب پاکستانی ٹیم کی جیت کی خوشی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے تو تب بھی ہندو طلباء نے کشمیری طلباء کو زدو کوب کیا تھا۔ اب ہریانہ سینٹرل یونیورسٹی کے مقامی طلباء نے خود ساختہ خبر اخبارات میں چھپوائی کہ جنوبی افریقہ سے پاکستان کے میچ جیتنے کے بعد یونیورسٹی کی دیواروں پر ’’پاکستان عظیم ہے‘‘ کی تحریریں لکھی گئی ہیں۔ حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہیں۔ یہ ہندو کا تعصب ہے جس کی بنیاد پر بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں ہو پا رہا۔ اس وقت 35کشمیری طلباء اپنے ہوسٹل میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ کیونکہ ہوسٹل سے باہر نکلتے ہیں تو مقامی لوگوں سے جان کو خطرہ ہے۔ ہریانہ یونیورسٹی میں آر ایس ایس بھی کافی اثر و رسوخ رکھتی ہے ہندو طلباء کی شیطانی ذہنیت سے تو یوں لگتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کشمیری طلباء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ امریکی صدر اوباما نے بھی اپنے دورہ بھارت کے اختتام پر مودی کو مذہبی انتہاء پسندی روکنے کا کہا تھا لیکن مودی نے اس پر کوئی عمل نہیںکیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ کشمیری طلباء نے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے لیکن مفتی سعید مودی کے ساتھ بات کرنے کا دم خم نہیں رکھتے۔ عالمی برادری ہندو طلباء کی اس جارحیت کا نوٹس لے اور دنیا کی بڑی جمہوریت اور سیکولر ہونے کے دعویدار بھارت کو مسلمانوں اور کشمیریوں کیساتھ اچھا برتائو کرکے کا کہے۔