حکومت کریڈٹ ضرور لے مگر کچھ کر کے تو دکھائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومت کریڈٹ ضرور لے  مگر کچھ کر کے تو دکھائے

وزیر خزانہ اسحق ڈار نے بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے تمام اداروں میں اصلاحات کیں اور دو سال میں معاشی ترقی کا رخ متعین کر دیا۔
وزیر خزانہ اعداد و شمار کے ذریعے سبز باغ دکھانے کے فن میں ماہر ہیں۔ وہ زر مبادلہ کے ذخائر 17 ارب تک پہنچانے کے دعویدار بھی ہیں اداروں میں اصلاح پی آئی اے، سٹیل ملز اور واپڈا میں بخوبی نظر آ رہی ہے۔ ایک بیوہ نے 80 ہزار روپے بجلی کا بل آنے پر خودکشی کرلی۔معاشی ترقی کا جو رخ متعین کیا وہ عام آدمی کو بھی نظر آنا چاہیے۔ عوام کی حالت کا اندازہ حکومتی اعدادو شمار اور خوش کن اعلانات سے نہیں ان کو حکومت کی طرف سے دیئے گئے ریلیف سے ہوتا ہے۔ ریلیف تو یہ دیا کہ کل تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور آج بجلی کی قیمت بڑھا دی اور لوڈشیڈنگ بدستور جاری ہے۔ درمیان بجٹ کے ذریعے بھی عوام ہی کا بھرکس نکالا گیا ‘ اوپر سے رمضان کی آمد پر مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے۔ حکومت کو کریڈیٹ لینے سے کوئی نہیں روکتا ایسا کام تو کریں جس کا کریڈیٹ لیا جا سکے۔ عوام کو محض نعروں، دعوﺅں اور وعدوں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔