حکومت اردو کو سرکاری زبان بنانے میں رکاوٹوں کی نشاندہی کرے

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومت اردو کو سرکاری زبان بنانے میں رکاوٹوں کی نشاندہی کرے

سپریم کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور مقامی زبانوں کی ترویج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کو اس حوالے سے پیشرفت کیلئے 2 جولائی تک مہلت دےدی ہے۔ حکومت پنجاب کو پنجابی زبان سمیت علاقائی زبانوں کی ترویج سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
قائد اعظم نے بہت سوچ سمجھ کر اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا تھا۔ آپ نے ڈھاکہ میں ایک اجلاس میں کہا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اور سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہو گئی۔ مگر ہمارے انگریزوں سے متاثرہ حکمران اشرافیہ طبقات اور نوکر شاہی نے اردو کو دیس نکالا دے کر اسکی جگہ انگریزی کو دی اور موقف یہ اختیار کیا کہ اردو میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم نہیں دی جا سکتی۔ آج ہماری غلامانہ ذہنیت یہ ہے کہ مختلف تقریبات یا پروگراموں میں مقررین اردو کی بجائے انگریزی میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں۔ جسکی مقرر سمیت کسی بھی سامع کو سمجھ نہیں آتی۔ آئین کے واضح احکامات کے باوجود حکومت نے اردو کو دفتری اور سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو سرکاری زبان اردو کو اس کا مقام دینے کا حکم دیا ہے لیکن حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ اب سپریم کورٹ نے پوچھ ہی لیا ہے کہ آخر ایسے کون سے لوگ ہیں جو آئین پر عملدرآمد نہ ہونے دینے کے ذمہ دار ہیں۔ انکی نشاندہی کی جائے۔ عدالت نے حکومت کو 2 جولائی تک کا وقت دیا ہے۔ حکومت مقررہ تاریخ تک اردو کو قومی زبان کا مقرر کرنے کے احکامات جاری کر کے رپورٹ پیش کرے۔ یہی 18 کروڑ عوام کی منشاءہے اور قائد کے فرمان پر بھی تب ہی عمل ہو گا جب اردو سرکاری زبان کا مقام حاصل کریگی اور تمام دفاتر میں کارروائی انگریزی کی بجائے اردو میں ہو گی۔