بھارت کے جارحانہ اعلانات پر مصلحت آمیزی

ایڈیٹر  |  اداریہ
بھارت کے جارحانہ اعلانات پر مصلحت آمیزی

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کو بھارت کی سیاسی قیادت کی طرف سے حالیہ غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ بیانات پر مایوسی ہوئی لیکن ہم اشتعال انگیزی کی وجہ سے اپنی بلند اخلاقی روایات ترک نہیں کرینگے۔ہمسایہ ممالک سے پرامن تعلقات چاہتے ہیں، امن کی خواہش یکطرفہ نہیں ہوسکتی۔
مودی نے بنگلہ دیش میں کھڑے ہو کر پاکستان توڑنے کی سازش میں بھارت کے شریک ہونے کا اعتراف کیا۔ اس پر وزیر اعظم کی طرف سے ردعمل اسی روز آنا چاہیے تھا۔ مودی کے بیان کے بعد بھارتی نائب وزیر اطلاعات دردھن سنگھ اور گزشتہ روز وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پاکستان کےخلاف میانمار کی طرز حملے کی دھمکی دی۔ مودی کے بیان سے قبل بھی بھارتی وزیر دفاع اور وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کیخلاف جارحانہ بیان بازی کی گئی۔ راہداری کی شدید مخالفت کی گئی اور آزادی کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ان بیانات پر محض افسوس کا اظہار کیا اور گزشتہ روز سفیروں کے اجلاس میں بھی مصلحت آمیز قسم کا بیان جاری کیا گیا۔ دشمن پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کو چیلنج کر رہا ہے اور وزیراعظم صاحب اسے محض غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ کہہ رہے ہیں۔ ساتھ اپنی اخلاقی روایات ترک نہ کرنے کا عزم بھی دہرا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی محض مذمتی قرار داد پیش کی گئی۔ حکومت کو بھارت کیساتھ تعلقات پر نظرثانی کا مشورہ تک نہیں دیا گیا۔ بھارت سے تجارت جاری رکھنے اور اسے پسندیدہ ملک قرار دینے کی پالیسی اپنی جگہ موجود ہے۔ خالی خولی بیانات کا بھارت پر اثر ہو گا نہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نوٹس لے گی۔ اصولی طور پر بھارت کی شر انگیزیوں کا مسکت جواب یہ ہو سکتا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس وقت تک قطع تعلق کر لیا جائے جب تک وہ پاکستان توڑنے کی سازش میں شامل ہونے پر معافی نہیں مانگ لیتا۔