امریکہ کو افغان راہداری کی بندش سے ہونیوالے نقصانات کا بہرصورت ادراک ہونا چاہیے

امریکہ کو افغان راہداری کی بندش سے ہونیوالے نقصانات کا بہرصورت ادراک ہونا چاہیے

دفاع اور ترجمان پاک فوج کا امریکہ کو دوٹوک جواب اور ترجمان دفتر خارجہ کا بات چیت کا عندیہ

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ مشکل مرحلہ تھا‘ ہم نے اپنی طرف امن کرلیا‘ افغانستان کو بھی امن کرنا ہوگا۔ گزشتہ روز ایک ٹی وی کو انٹرویو میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم پرامن قوم ہیں‘ فاٹا کی سات ایجنسیوں میں طالبان کا اثرورسوخ تھا‘ شمالی وزیرستان کے اپریشن سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس کی گئی جس کے فیصلہ کے بعد دہشت گردوں کو بھاگنے نہ دینے اور افغانستان منتقل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ انکے بقول اگر میکنزم طے پاگیا تو بارڈر کے بہت سے مسائل حل ہو جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کیلئے کچھ اقدام پاکستان اور کچھ افغانستان کو کرنا ہونگے‘ پاکستان امن کی جانب جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ افغانستان میں افغان صدر اشرف غنی سے کوآرڈی نیشن کی بات ہوئی ہے۔ کوارڈی نیشن بہتر ہو جائے تو بارڈر کے معاملات حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کیخلاف اب بھی سرگرم عمل ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان‘ افغانستان سے کوئی ادھر ادھر باآسانی آجانہ سکے۔ انہوں نے باور کرایا کہ افغان جنگ سے پہلے پاکستان میں دہشتگردی نہیں تھی۔ دہشت گردوں کے وار 2008ء میں ملک کے دیگر حصوں میں ہوتے تھے۔ بھارت نے 2003 ء سے 2016ء تک سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ کلبھوشن کا کیس بھی سامنے ہے کہ کیسے اس نے پاکستان میں عدم استحکام کی کوشش کی۔ اسکی گرفتاری سے ظاہر ہوگیا کہ بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے۔ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے۔ پاکستان پر کوئی الزام نہیں لگا سکتا جبکہ افغانستان کے تھریٹ پاکستان پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے بیان کے حوالے سے حکومت پاکستان بیان دے چکی ہے۔ پاکستان کے بغیر امریکہ القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا۔
یہ حقیقت ہے کہ امریکی نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے افغانستان میں شروع کی گئی نیٹو امریکی فورسز کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرنے کے بعد ہی پاکستان پر افتاد ٹوٹی ہے جس کی جانب سے نیٹو فورسز کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے ردعمل میں دہشت گرد انتہاء پسند تنظیموں نے پاکستان کے اندر خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا جبکہ امریکہ نے خود بھی پاکستان کے اندر ڈرون حملوں اور دوسری فضائی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس کا ردعمل بھی پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کی صورت میں ہی برآمد ہوا۔ اس سلسلہ میں پاکستان کی طرف سے جو فیکٹ شیٹ امریکہ کے حوالے کی گئی ہے اس میں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے ہونیوالے جانی اور مالی نقصانات کی مکمل تفصیل پیش کی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان نے افغان جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے دس ہزار سکیورٹی اہلکاروں اور افسران سمیت ملک کے 70 ہزار سے زائد شہریوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جبکہ ملک میں ہونیوالی دہشت گردی سے قومی معیشت کو ایک کھرب ڈالر سے بھی زائد کا جھٹکا لگا ہے۔ اس کا صلہ امریکہ کی جانب سے ہمیں کیا ملا ہے سوائے واشنگٹن اور پینٹاگون کی ہمارے کردار پر بداعتمادیوں کے اظہار اور ’’ڈومور‘‘ کے تقاضوں کے۔ افغان جنگ میں پاکستان کے اس کردار کے عوض کولیشن سپورٹ فنڈ سے اسے 16, 15‘ ارب ڈالر کی جو ادائیگی بالاقساط طے ہوئی وہ بھی پاکستان کے کردار پر شک کا اظہار کرتے اور کڑی شرائط عائد کرتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں ادا کی جاتی رہی جو امریکی کانگرس میں قراردادیں منظور کراکے کبھی معطل کی جاتی رہی اور کبھی اس میں کٹوتی کی جاتی رہی۔ قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) جنجوعہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی باور کراچکے ہیں کہ اس سپورٹ فنڈ سے بھی پاکستان کو ابھی دو ارب ڈالر کی ادائیگی باقی ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے طے کی گئی پالیسیوں کی روشنی میں اسکی فوجی امداد معطل کردی ہے اور اس پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگوانے کی تلوار بھی لٹکا دی گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنا کردار پوری دیانتداری اور جفاکشی سے ادا کیا جس کا خمیازہ اسے بھاری جانی اور مالی نقصانات کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے جبکہ اس جانفشانی والے اس کردار کے برعکس پاکستان کو ہمیشہ امریکی سردمہری‘ تلخ لہجے اور ڈومور کے تقاضوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکے باوجود پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اعتماد سازی کے ذریعے تعلقات میں ایسا بگاڑ پیدا نہیں ہونے دیا کہ ’’انف از انف‘‘ والی نوبت آئے۔ پاکستان چاہتا تو ٹرمپ انتظامیہ کے بلاجواز فیصلہ کے بعد اپنا فرنٹ لائن اتحادی والا کردار فوری طور پر ترک کر دیتا اور نیٹو کیلئے افغانستان کی راہداری بھی بند کر دیتا جیسا کہ سلالہ حملوں کے بعد راہداری معطل کی گئی تھی مگر پاکستان نے فوری طور پر ایسا ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے فہم و دانش کا راستہ اختیار کیا اور سول و عسکری قیادتوں نے باہمی مشاورت اور اعلیٰ سطح پر غوروفکر کے بعد امریکہ کیلئے فوجی تعاون معطل کیا‘ اسکے باوجود افغانستان میں امریکی نیٹو فورسز کو جو اب وہاں معدودے چند رہ گئی ہیں‘ بدستور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جارہی ہے جبکہ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اس امر کا بھی عندیہ دیا ہے کہ سلامتی کے امور پر تعاون کے سلسلہ میں پاکستان اور امریکہ کے مابین باہم رابطے بدستور موجود ہیں اور مختلف سطحوں پر بات چیت بھی چل رہی ہے تاہم انہوں نے اسکی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ ضرور باور کرایا کہ امریکہ افغانستان کی سپلائی لائن کی اہمیت سے آگاہ ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر امریکہ نہ صرف یہ کہ افغان جنگ جیت نہیں سکتا بلکہ اسے بھاری جانی اور مالی نقصانات بھی اٹھانا پڑ سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اس جنگ میں نیٹو فورسز کو لاجسٹک سپورٹ فراہم نہ کرتا تو امریکی نیٹو فورسز کا کوئی بھی اہلکار زندہ بچ کر اپنے ملک واپس نہ جا سکتا اور افغان دھرتی ان کا قبرستان بن جاتی۔ اگر 2012ء سے 2014ء تک نیٹو فورسز کی افغانستان سے بحفاظت واپسی ممکن ہوئی تو اس میں بھی پاکستان کا کردار ہی شامل حال تھا جس نے طالبان کے مختلف گروپوں سے امن مذاکرات کا راستہ ہموار کیا اور اس طرح نیٹو فورسز کو ’’سیف پیسج‘‘ مل پایا۔ امریکہ کو تو اس پر پاکستان کا ممنون احسان ہونا چاہیے تھا چہ جائیکہ اسکے کردار پر بداعتمادی کا اظہار کرکے ٹرمپ انتظامیہ اسے ’’پوائنٹ آف نوریٹرن‘‘ کی جانب دھکیلنے کی احمقانہ کوشش کرتی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تو بھارت کے ساتھ ایٹمی دفاعی گٹھ جوڑ کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیش نظر نہیں رکھی کہ یہی پاکستان کا وہ ازلی مکار دشمن ہے جس نے اسے دولخت کیا ہوا ہے اور وہ اب بھی اسکی سلامتی کے درپے ہے جس کیلئے وہ ہر محاذ پر اپنے سازشی منصوبے بنارہا ہے۔ وہ دہشتگردی کے ذریعے نہ صرف گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری منصوبہ سبوتاژ کرنا چاہتا ہے بلکہ پورے ملک میں عدم استحکام کی فضا پیدا کرنے کے درپے ہے۔ بلوچستان میں پکڑا گیا بھارتی ’’را‘‘ کا کلبھوشن نیٹ ورک اس کا بڑا ثبوت ہے۔ اسی طرح بھارت نے پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشوں میں افغانستان کو بھی اپنا شریک کار بنا رکھا ہے جہاں سے وہ نہ صرف اپنے دہشتگردوں کو تربیت دیکر پاکستان بھجواتا ہے بلکہ پاک افغان سرحدی کشیدگی پیدا کرنے میں بھی اس کا عمل دخل ہے۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ افغان دھرتی بذات خود دہشت گردوں کیلئے جنت بنی ہوئی ہے جہاں کابل انتظامیہ کی سرپرستی میں انکے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان میں دہشت گردی کیلئے ڈوریاں ہل رہی ہیں جس کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی اقوام متحدہ اور امریکی دفتر خارجہ کو پیش کئے جاچکے ہیں۔ اسکے باوجود کابل انتظامیہ پاکستان کو دہشت گردی کا موردالزام ٹھہراتی ہے اور اس سلسلہ میں واشنگٹن اور دہلی کی جانب سے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی جاتی ہے۔ اگر کابل انتظامیہ خود اور امریکہ افغانستان میں فی الواقع قیام امن کا خواہاں ہے تو افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں پر ضربِ عضب اور ردالفساد جیسا اپریشن کرکے وہاں سے دہشت گردی کی جڑیں تک کاٹی جا سکتی ہیں۔ اگر امریکہ اور کابل انتظامیہ افغانستان میں ایسے اپریشن سے گریز پا ہے اور اسکے برعکس پاکستان سے مزید اپریشن کے تقاضے کئے جاتے ہیں تو اس سے صاف واضح ہے کہ اس کا مقصد افغانستان میں امن کی بحالی نہیں‘ کچھ اور ہے۔
اس وقت پاکستان کی سلامتی کو اندرونی اور بیرونی طور پر جو سنگین خطرات لاحق ہیں اس کا یقیناً ہماری سول اور عسکری قیادتوں کو مکمل احساس و ادراک ہے اور اسی تناظر میں ملک کی دفاعی حکمت عملی اور خارجہ تعلقات کی پالیسی طے کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ ہماری مسلح افواج چوکنا ہیں اسلئے امریکہ کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ ہمیں دھمکیوں سے ڈرا لے گا۔ اپنے دفاعی حصار کی مضبوطی کیلئے بیشک ہمیں امریکہ کے فوجی تعاون کی ضرورت ہے مگر ہمارا فوجی تعاون امریکہ کی اپنی بھی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں ترجمان پاک فوج نے باور کرایا ہے کہ پاکستان کے بغیر امریکہ القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس تناظر میں اگر ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امن کی بحالی یقینی بنانا چاہتی ہے تو یہ علاقائی امن کے دشمن بھارت کو کردار سونپنے سے قطعاً ممکن نہیں۔ اس کیلئے پہلے افغانستان کو خود کردار ادا کرنا ہوگا جس میں پاکستان کیساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرکے افغان دھرتی پر دہشت گردوں کے ہر ٹھکانے کا کھوج لگایا اور اس کا مکمل صفایا کیا جا سکتا ہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھا کر امریکہ افغان جنگ میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔