پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ‘ دیر آید درست آید

ایڈیٹر  |  اداریہ
پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ‘ دیر آید درست آید

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ امن عامہ کے حوالے سے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں فرائض سرانجام دیں۔ سیف سٹی پراجیکٹ امن عامہ کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اربوں روپے کی لاگت کے اس منصوبے پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے۔ سیف سٹی کا منصوبہ لاہور کے ساتھ ملتان‘ راولپنڈی‘ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بھی شروع کیا جائے گا۔
کسی بھی حکومت یا ریاست کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرے۔ پاکستان گذشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں ہے اور ہزاروں قیمتی جانیں اس کی نذر ہو چکی ہیں۔ اسی دہشت گردی کے سبب سے دیگر جرائم کو بھی پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا اور عوام ڈاکوں‘ ڈکیتیوں اور سٹریٹ کرائمز کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں اور اب ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ یہ صورتحال صوبہ پنجاب میں دوسرے صوبوں کی نسبت کہیں زیادہ  سنجیدہ شکل اختیار کر چکی ہے۔ جس کے پیش نظر وزیراعلیٰ شہباز شریف نے گزشتہ روز اجلاس میں پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری دی جسے اربوں روپے کی لاگت سے شروع کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ پنجاب کے ڈرے سہمے شہریوں کے لئے خوش آئند اور اطمینان و سکون کا باعث ہے۔ لیکن حکومت پنجاب کو حالیہ تناظر میں ایسے اقدام کو بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا‘ خیر دیر آید درست آید۔ اب حکومت پنجاب کو مزید تاخیر کیے بغیر اس منصوبے کو فی الفور عملی جامہ پہناتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔