متفقہ قرار داد پر عمل ہی پاکستان اور خطے کے امن کے مفاد میںہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
متفقہ قرار داد پر عمل ہی پاکستان اور خطے کے امن کے مفاد میںہے

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ٹیلی فون پر اہم تبادلہ خیالات ہوا۔ ترک صدر اردگان نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو لاہور میں فون کیا، دونوں رہنمائوں میں 45 منٹ تک بات ہوئی۔دونوں رہنمائوں نے اس بات پر زور دیا کہ حوثیوں کو یمن میں قانونی حکومت کو ہٹانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ دونوں نے یمن کے معاملے میں کوششیں تیز کرنے، یمن کے مسئلے کا پرامن طریقے سے حل نکالنے، یمن بحران کے حل کیلئے ملکر کوششیں کرنے، یمن جنگ کے باعث بگڑتی صورتحال پر پرامن اقدامات کے ذریعے قابو پانے پر بھی اتفاق کیا اور کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو کسی بھی طرف سے خطرہ ہوا تو دونوں مل کر منہ توڑ جواب دینگے۔دریں اثناء  متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے یمن کے تنازعے میں غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم موقف کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ علاوہ ازیںمرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیراہتمام دفاع حرمین شریفین کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ اور راہنمائوں کے خطاب میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان غیرمشروط طور پر سعودی عرب کی حمایت و تعاون کرے، سعودی عرب اور یمن کے معاملے کو فرقہ وارانہ جنگ قرار نہ دیا جائے، سعودی عرب کے معاملے پر پاکستان ثالث نہیں فریق ہے۔
دس اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والی متفقہ قرار داد بلاشبہ قومی شعور کی عین آئینہ دار ہے۔ اس قرار داد کے بعد سعودی عرب کے مطالبے پر یمن میں پاک فوج بھجوانے کی بحث لا حاصل ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے سعودی عرب کی بری بحری اور فضائی افواج کی فراہمی کے مطالبے پر پارلیمنٹ سے رہنمائی کے لئے مشترکہ اجلاس طلب کیا۔ جمہوری ممالک میں بڑے فیصلے کرنے کا پارلیمنٹ ہی صحیح فورم ہے۔ یہ قرار داد پارلیمنٹ، قوم اور سب سے بڑھ کر مسلم لیگ ن کی کامیابی ہے۔ پارلیمنٹ نے متفق ہو کر کہا کہ جنگ یمن میں پاکستان کو اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنی چاہئیے۔
پارلیمنٹ میں ہر پارٹی کو اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔ ہر مقرر نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام کانفرنس کا کوئی جواز نہیں تھا۔
کانفرنس سے سعودی عرب کے نائب وزیر مذہبی امور عبدالعزیز بن عبداللہ العمار، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، پروفیسر ساجد میر، ڈاکٹر ابوتراب، حافظ عبدالکریم، لیاقت بلوچ، ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، پیر محفوظ مشہدی، پیر اعجاز ہاشمی، شاہ اویس نورانی، مولانا حامد الحق حقانی، مفتی محمد نعیم، پروفیسر عبدالرحمن مکی، یعقوب شیخ سمیت متعدد مقررین نے خطاب کیا۔ شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کیا اور سعودی عرب کے حق میں نعرے لگائے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی پر تو کوئی حرج نہیں تھا مگر اپنے خطابات کے دوران متعدد مقررین نے قرار داد کو ہدف تنقید بنایا اور مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کے معاملے پر ثالث نہیں فریق ہے۔ یہ قرار داد پر عدم اعتماد کے مترادف ہے جو قوم کی نمائندہ پارلیمنٹ نے منظور کی۔ حافظ سعید نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سعودی عرب کے حوالے سے قرار داد قوم کی آواز نہیں۔ حافظ سعید واضح کریں کہ قوم کی نمائندہ پارلیمنٹ کی رائے بھی اگر قوم کی آواز نہیں تو پھر قوم کی آواز جانچنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ کانفرنس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف بھی موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں قرار داد کے خلاف باتیں ہوتی رہیں۔ وہ نہ صرف خاموشی سے سب کچھ سنتے رہے بلکہ انہوں نے اس اعلامیے سے بھی اختلاف نہ کیا جس میں پاکستان کو ثالث کی بجائے فریق بننے کو کہا گیا۔ وزیر نے جس موقف کی حمایت کی کیا یہی حکومت کا نیا ہے؟ اگر نہیں تو حکومت ان سے باز پرس کرے۔ کس طرح ایک وزیر پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد کی بھد اڑا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اس کانفرنس میں جذباتی نظر آئے حکومت کی طرف سے سعودی عرب کے مطالبے پر فوج بھیجنے کا اعلان کیا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے اس اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اے پی سی اور پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسے مطالبات ہی پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا جس میں مولانا بھی دھواں دار تقریر کرنیوالوں اور قرار داد کی حمایت میں شامل تھے۔ اب کانفرنس میں سعودی نائب وزیر کی موجودگی میں سعودی عرب کی حمایت میں موقف کا اظہار کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر ڈاکٹر انورمحمدقرقاش نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات دوست ہیں۔ کیا دوستوں کے ساتھ اس طرح کے غیر مہذبانہ لہجے میں بات کی جاتی ہے؟ ایسی زبان تو سفارتی آداب کے بھی منافی ہے۔ اس پر دفتر خارجہ کی خاموشی افسوسناک ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ تسنیم اسلم کہتی ہیں کہ بیان کی تصدیق ہونے پر کوئی ردعمل دیں گے۔ مذکورہ وزیر نے اپنے بیان کی تردید نہیں کی گویا بیان درست ہے۔ اب وزارت خارجہ کی خاموشی بلاشبہ شرمناک ہے۔ ڈاکٹر انور احمد قرقاش پاکستان کو خبردار کر رہے ہیں کہ ’’اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم موقف کی پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی‘‘۔ پارلیمنٹ کی قرار داد میں کوئی ابہام نہیں۔ یہ بالکل واضح قرار داد ہے۔ جنگ یمن کے حوالے سے اس میں پاکستان کے کردار کا پوری وضاحت کے ساتھ کردار متعین کر دیا گیا ہے اگر قرار داد سے کسی کی توقعات پوری نہیں ہوئیں تو اس کا مطلب یہ نہیںکہ پاکستان جو ایک خود مختار ملک ہے کو دھمکیاں دی جائیں۔ پاک فوج کا ایک بڑا حصہ ضرب عضب آپریشن میں مصروف ہے۔ بھارت کے ساتھ سرحد عموماً بھارتی شرپسندی اور اشتعال انگیزی کی زد میں رہتی ہے۔ گزشتہ روز پھر لائن آف کنٹرول پر بھارت نے فائرنگ کی جس سے ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔ ایک روز قبل ہی شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملے میں فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ جوابی کارروائی میں 5 دہشتگرد بھی ہلاک ہوئے۔ گزشتہ روز بلوچستان میں دہشتگردوں نے 16 افراد کو گولیاں مار کر بھون ڈالا تھا۔ قرقاش کو پاکستانی فوج کی ان محاذوں پر ذمہ داری کا علم ہونا چاہئیے۔ سعودی عرب فوج نہ بھجوانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔
پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد میں یہ بھی بتایا گیا ہے ’’ ایوان سمجھتا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں تاہم اس کے فرقہ ورانہ تنازع میں تبدیل ہونے کی خدشات موجود ہیں جس کے پاکستان سمیت خطے میں سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ دور روز قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں کور کمانڈرز کے اجلاس میں کہا گیا کہ یمن تنازع جاری رہا تو اس کے خطے کی سلامتی پر برے اثرات مرتب ہونگے۔ امارات کے وزیر ڈاکٹر قرقاش کہتے ہیں کہ ایران حوثی باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ سعودی عرب کا موقف بھی یہی ہے اس سب کو مد نظر رکھا جائے تو کیا پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کو فریق بن کر جنگ میں کود جانا چاہئیے یا خطے کو بدامنی سے بچانے اور فرقہ واریت کے عفریت کو مزید دندناتے سے روکنے کے لئے کردار ادا کرنا چاہئیے۔ پاکستان اور ترکی کا خطے کو بدامنی سے بچانے پر اتفاق ہوا ہے یہی بہترین فیصلہ ہے اور پاکستان کی قومی شعور کی آئینہ دار پارلیمنٹ نے بھی حکومت کو خطے کو بدامنی کی آگ سے بچانے کا مشورہ دیا ہے۔ یہی درست فیصلہ اور مشورہ ہے۔