بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما کو پھانسی

ایڈیٹر  |  اداریہ
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما کو پھانسی

بنگلہ دیش1971ء میں پاکستان کی حمایت کے الزام میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما قمر زمان کو پھانسی دے دی گئی۔ امریکہ کی طرف سے پھانسی دینے کے مخالف۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے محتاط ردعمل۔
1971ء کی جنگ اور عالمی سازشوں کے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا۔ اس سے قبل یہ دونوں علاقے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کہلاتے تھے۔ جب بھارتی افواج اور اسکی حمایت یافتہ مکتی باہنی کے مسلح تخریب کاروں نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو محب وطن بنگالیوں نے اسکے خلاف حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا ساتھ دیا انکا یہ فعل اپنے ملک کے دفاع کے لیے جائز اور برحق تھا۔ اسکے بعد بنگلہ دیش وجود میں آیا تو اب 44 برس بعد اپنے وطن کا دفاع کرنے والوں کو جنگی مجرم قرار دے کر پھانسی پر لٹکانے کا یہ عمل نہایت افسوسناک ہے۔ اگر یہ مجرم ہوتے تو بنگلہ دیش کے قیام کے بعد انہیں تختہ دار پر کیوں لٹکایا نہیں گیا۔ اس وقت جب ایسا نہیں کیا گیا تو اب حسینہ واجد کے دور حکومت میں ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی آج بھی بنگلہ دیش میں ایک مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ایسے منفی اقدامات سے حسینہ واجد کی حکومت صرف عوام کے درمیان نفرت کی خلیج کو بڑھا رہی ہے۔ تشدد کو ہوا دے رہی ہیں کیونکہ اب جماعت اسلامی کی طرف احتجاج ہو گا اور بے وجہ مزید قیمتی جانیں ضائع ہوں گی۔ جماعت اسلامی کے جن سابقہ عہدیداروں کو پھانسی دی گئی ہے انہوں نے بنگلہ دیش بننے کے بعد کبھی نئے ملک کی کوئی مخالفت کی نہیں اس کے خلاف کام نہیں کیا، تو ان پر غداری کا مقدمہ کیسا۔ وہ تو بنگلہ دیش کے پرامن شہری بن کر رہے۔ صرف پاکستان مخالف عناصر کو خوش کرنے کے لئے ایسے اقدامات خود بنگلہ دیش کی موجودہ عوامی لیگ کی حکومت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ وہ ایسے کاموں سے اجتناب کرے۔ اگر امریکہ ایسے بہیمانہ اقدام کی مخالفت کر رہا ہے تو پاکستان کیوں محتاط ردعمل دیا جا رہاہے۔ پاکستان کو تو ایسے لوگوں کی پھانسی پر شدید ردعمل ظاہر کرنا چاہئیے جن کو پاکستان کی حمایت کی سزا دی جا رہی ہے۔ پاکستان ایسے لوگوں کی سزا ختم کرانے کی کوشش کرے۔