افتخار چودھری کا سپیکر کو خط کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
افتخار چودھری کا سپیکر کو خط کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کوخط میں کہا ہے رکن اسمبلی مستعفی ہونے کے 40 روز تک ایوان میں غیر حاضر رہیں تو ان کے استعفے منظور ہو جاتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 64 کے تحت تحریک انصاف کے مستعفی ارکان کی نشستیں خالی ہو چکی ہیں۔ سپیکر کا استعفی منظور نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
2013ء کے الیکشن کو تحریک انصاف دھاندلی زدہ الیکشن کہتی ہے۔ اسی بنیاد پر تحریک انصاف نے 14 اگست 2014ء کو لاہور سے احتجاج کا آغاز کیااور اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دیا اور 22 اگست 2014ء کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دیئے۔ آئین کے آرٹیکل 64 کے تحت 40 روز تک اگر کوئی ممبر ایوان سے غیر حاضر رہے تو اس کی نشست خالی ہو جاتی ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے سپیکر کوخط لکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ایوان کے اندر سے ایسے ممبر کے بارے کوئی قرار داد آئے تو سپیکر اس نشست کو خالی قرار دے دیتا ہے۔ مگر کسی بھی ممبر نے ایسی کوئی قرار داد پیش نہیں کی بلکہ ساری سیاسی جماعتیں انہیں استعفے واپس لینے پر آمادہ کرتی رہیں۔ سپیکر نے ممبران کو استعفوں کی تصدیق کے لئے فرداً فرداً پیش ہونے کا کہا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ آٹھ مہینے تک پی ٹی آئی کے ارکان بحیثیت ممبر پارلیمنٹ تنخواہیں اور مراعات لیتے رہے۔ کسی بھی جماعت نے ان پر انگلی نہیں اٹھائی۔ تحریک انصاف نے دھاندلی پر جوڈیشل کمشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب وہ کمیشن بن چکا ہے افتخار چودھری اس سلسلے میں ایک فریق ہیں۔ اور جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ استعفوں کا معاملہ عدالت میں جا چکا ہے۔ جس طرح انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا ہے اس سے تو بادی النظر میں یہ تاثر ملتا ہے کہ سابق چیف جسٹس کیس پر اثر انداز ہو رہے ہیں کیونکہ اس وقت عدلیہ میں موجود کئی ججز اور وکلاء انہیں رول ماڈل قرار دیتے ہیں آٹھ مہینوں سے تحریک انصاف کے استعفی سپیکر کے پاس پڑے تھے۔ افتخار چودھری نے تب خط کیوں نہیں لکھا؟ اب وہ اپنے خط میں سپیکر اسمبلی کو استدعا کی شکل میں ڈرا رہے ہیں کہ اگر کوئی عدالتی آرڈر آگیا تو آپ کے لئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔