جان بچانے والی ادویات کی مصنوعی قلت

ایڈیٹر  |  اداریہ

محکمہ صحت پنجاب اور ڈرگ انسپکٹرز کی عدم توجہ سے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کمپنیوں نے کئی گنا اضافہ کر دیا ہے جبکہ بعض ادویات کی مصنوعی قلت بھی پیدا کر دی گئی ہے۔
حکومت نے 29 نومبر 2013ء کو ادویات کی قیمتوں میں 2 سے 15 فیصد تک اضافہ کیا تھا۔ جس پر وزیراعظم نے نوٹس لیا اور ادویات کی پرانی قیمتیں بحال کر دی تھیں لیکن وزیراعظم کے حکم کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اور محکمہ صحت پنجاب کے ڈرگ انسپکٹرز کی ملی بھگت سے میڈیکل سٹوروں پر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بعض انتہائی ضروری ادویات کی مصنوعی قلت بھی پیدا کر دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا۔ لیکن گزشتہ کئی روز سے ادویات کے بحران پر حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ مافیا نے قیمتوں پر ازخود اضافہ کر لیا ہے۔ ڈرگ انسپکٹر مفت کی تنخوائیں لے رہے ہیں۔ جان بچانے والی ادویات اگر مریضوں کو نہیں ملیں گی تو وہ موت کے منہ میں چلے جائینگے۔ اب 10 کیپسول اور گولیوں والے سٹرپ (پتہ) کی قیمت میں 25 روپے سے 110 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ انجکشن کی قیمتوں میں 70 سے 180 روپے تک اضافہ کیا ہے۔ میڈیکل سٹور پر دل جگر اور شوگر کے امراض کو کنٹرول کرنے والی ادویات میڈیکل سٹور پر نایاب ہیں۔ وزیراعظم اور وزیر صحت اس کا نوٹس لیں اور پنجاب حکومت بھی ڈرگ انسپکٹرز کے کان کھینچے۔ میڈیکل سٹورز مالکان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کیلئے انتہائی ضروری ادویات کی قلت پیدا کر رہے ہیں۔ اگر اصل ادویات سٹورز پر دستیاب نہیں ہونگی۔ پھر دو نمبر دوائیاں مارکیٹ میں آ جائیں گی جس کے فائدے کی بجائے عوام کو الٹا نقصان اٹھانا پڑیگا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل کروائیں۔ اگر وزیراعظم کے احکامات کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینکا جانے لگا تو پھر ملک میں رٹ کیسے برقرار ہو گی‘ لہٰذا حکومت نہ صرف ادویات کی کمی کو پورا کرے بلکہ انکی قیمتیں بھی پہلے ریٹس پر برقرار رکھے تاکہ عوام اپنی جان بچانے والی دوائیاں تو خرید سکیں اور تمام سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کا علاج مفت کرایا جائے۔