بھارتی وزیر داخلہ شندے کا دائود ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا الزام اور امریکہ سے مل کر اپریشن کی دھمکی …… مشترکہ اپریشن کی دھمکی بزدلی اور بچگانہ سوچ ہے‘ پاکستان خاموش نہیں رہے گا

ایڈیٹر  |  اداریہ

 بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث داؤد ابراہیم کے پاکستان میں ٹھکانے کا پتہ چلا لیا ہے، امریکہ اور بھارت جلد پاکستان میں خفیہ اپریشن کرنے جا رہے ہیں، دائود ابراہیم کو بھارت لایا جائیگا، اس مقصد کیلئے امریکی ایف بی آئی سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ دوسری طرف داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی چھوٹا شکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ بھارت جتنی بھی کوشش کر لے وہ داؤد ابراہیم کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ وزیر داخلہ سے صرف ایک ہی لفظ کہتا ہوں کہ ’’لگے رہو منا بھائی‘‘۔ ادھر ’’را‘‘ کے سابق سربراہ وی بالا چندرن نے داؤد ابراہیم کو بھارت پہنچانے کے سلسلے میں ایف بی آئی سے مدد طلب کرنے پر وزیر داخلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مجھے حیرانگی ہو رہی ہے کہ انٹرپول کی بجائے وزیر داخلہ نے کس طرح امریکی خفیہ ادارے سے مدد مانگی ہے جو نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی درست فیصلہ نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ بھارت پر متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ دائود ابراہیم پاکستان میں نہیں ہیں۔ بھارت امریکہ کی طرف سے کس طرح یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ دائود ابراہیم کو پکڑنے کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارت اور بالخصوص امریکہ ایسے کسی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے اجتناب کریگا جس کے خطے پر برے اثرات مرتب ہوں۔
ممبئی حملوں کی حقیقت بھارتی وزارت داخلہ کے سابق نائب سیکرٹری ستیش ورما نے گزشتہ سال کے وسط میں ایک مقامی عدالت میں یہ بیان داخل کراکے بے نقاب کر دی تھی کہ نئی دہلی میں پارلیمنٹ اور ممبئی حملے خود حکومت نے کرائے تھے‘ جن کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قوانین کو سخت بنانے کیلئے جواز پیدا کرنا تھا۔ ورما سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے۔ بعدازاں ورماء کو اتنا پریشرائز کیا گیا کہ انہوں نے بیان واپس لے لیا‘ لیکن تیر کمان سے نکل اور بھارت کے چہرے سے نقاب الٹ چکا تھا۔ پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے الزام میں بالترتیب افضل گورو اور اجمل قصاب کو پھانسی دیدی گئی تھی۔
بھارت اپنے ہاں ہونیوالی ہر تخریب کاری کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے حالانکہ وہاں منی پور‘ میزورام‘ ناگالینڈ‘ آسام‘ بنگال‘ خالصتان اور کشمیر سمیت درجنوں آزادی اور علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں‘ ان میں نکسل باڑیوں کی سب سے زیادہ خطرناک تحریک بھی شامل ہے۔ تامل شدت پسندوں نے راجیو اور خالصتان تحریک کے ہمدرد محافظوں نے اندراگاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ چند ماہ قبل وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے بجا کہا تھا کہ بھارت میں پٹاخہ چل جائے‘ اس کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔ چند سال قبل کسی ریاست میں طاعون کی وباء پھیلی تو اس کا الزام بھی پاکستان پر دھردیا گیا۔ 26 نومبر 2008ء کو ممبئی میں دہشت گردوں کی پہلی گولی چلنے کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے پاکستان کیخلاف الزامات کی برسات کرتے ہوئے زمین و آسمان ایک کر دیا تھا۔ حکومت‘ اپوزیشن اور دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی بلاتحقیق پاکستان کیخلاف زہر اگلنا اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس سے اقوام متحدہ تک متاثر ہو گئے اور بھارت نے جن پاکستانیوں پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے‘ ان پر اقوام متحدہ نے پابندی لگا دی۔ حکومت نے ان میں سے کئی کو گرفتار اور متعدد کو نظربند کردیا۔ پاکستانی عدالتوں میں معاملہ گیا تو وہ بے قصور قرار دیئے گئے۔ حافظ سعید نے مزید تحقیقات کیلئے معاملہ عالمی عدالت لے جانے کی پیشکش کی لیکن بھارت ملزموں کو اپنے ہاں لے جا کر مقدمہ چلانا چاہتا تھا۔ بھارت کو اگر پاکستانی عدلیہ پر اعتبار نہیں تو پاکستان بھارتی عدالتوں پر کیسے اعتبار کر سکتا ہے؟ اسکے باوجود نہ صرف بھارت بلکہ کسی بھی ملک کو ثبوتوں کے ساتھ دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ملزموں کی حوالگی کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت اب تک دنیا کے سامنے پاکستان میں موجود کسی شخص پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے مصدقہ ثبوت فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ رہی سہی کسر ستیش ورما نے پوری کر دی ہے۔
عالمی قوانین کے تحت دنیا کے کسی بھی خطے اور ملک میں موجود مطلوبہ ملزم کی گرفتاری کیلئے انٹرپول (انٹرنیشنل پولیس) موجود ہے‘ اسے ثبوت فراہم کر دیئے جائیں تو وہ ملزم کو بازیاب کراکے متعلقہ ملک کے حوالے کرنے کی پابند ہے۔ ایسا عموماً ہوتا رہتا ہے۔ را کے ایک سربراہ نے بھی شندے کے بیان پر تنقید کی اور صحیح طریقہ کار بتایاہے۔ دائود ابراہیم ممبئی حملوں میں ماخود اور وہ وزیر داخلہ شندے کے بقول پاکستان میں موجود ہیں تو بھارت انٹرپول سے رابطہ کرے۔ امریکہ کے ساتھ مل کر ایک آزاد اور خودمختار اور ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے اندر اپریشن کی دھمکی ایک نامعقول اور بچگانہ سوچ کی عکاس ہے۔ آپ جب انٹرپول کو ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہے ہیں تو امریکہ کو پاکستان میں خفیہ اپریشن کرنے پر کیسے قائل کرینگے؟ اس معاملے میں امریکہ کا کیا مفاد اور دلچسپی ہو سکتی ہے؟
امریکہ مسئلہ کشمیر جیسے ایشوز کو پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ اسے شندے کے مشترکہ اپریشن کے حوالے سے بیان کا نوٹس لینا اور وضاحت کرنی چاہیے تھی۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کا بازار گرم کررکھا ہے۔ اسکی سات لاکھ سفاک افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کی جانیں محفوظ ہیں نہ عزت و حرمت‘ اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں بھی بہ تکرار کہا گیا ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کی کی پامالی سب سے زیادہ اسی وادی میں ہوتی ہے۔ جہاں سینکڑوں کی تعداد میں اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے حریت پسندوں کو بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان گڑھوں میں پھینک دیا۔پاکستان نے کبھی کسی ملک کو ساتھ ملا کر مقبوضہ کشمیر میں اپریشن کی بات نہیں کی۔ بھارت نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مل کر اپریشن کا عندیہ دیکر اپنی کمزوری اور بزدلی ظاہر کی ہے۔ کیا اس پر ایٹمی قوت کا حامل پاکستان خاموش رہے گا؟
پاکستان کی طرف سے شندے کے بیان پر شدید ردعمل آنا چاہیے تھا اور امریکی عدم وضاحت پر بھی احتجاج کی ضرورت تھی۔ وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک روایتی بیان پر اکتفا کیا۔ ہمارے بھارت کے ساتھ تعلقات اور تجارت کو فروغ دینے‘ وہاں سے بجلی و گیس درآمد کرنے کیلئے سرگرداں حکمرانوں کو بنیئے کی سوچ کا ادراک کرنا چاہیے جو پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کا خود موقع پیدا کرکے اسے استعمال کرنے کا فن جانتا ہے۔ ایک طرف بھارت کی طرف سے خیرسگالی کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف من گھڑت و بے بنیاد الزامات اور ناقابل عمل مطالبات سامنے آجاتے ہیں۔ ابھی کل ہی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے منموہن سنگھ کے پاکستان کے دورے کی بات کی تھی کہ شندے نے الزام تراشی اور دشنام طرازی کا نیا سلسلہ شروع کر دیا جس سے سوائے دونوں ممالک میں مزید کشیدگی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اس پر شندے کو بقول شخصے ’’لگے رہے منا بھائی‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔