ایٹمی اثاثے مضبوط ہاتھوں میں ہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سٹرٹیجک پلان ڈویژن کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو سٹرٹیجک پلان ڈویژن خالد قذافی نے بریفنگ دی۔ آرمی چیف نے نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان دشمن ممالک کی طرف سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے آئے دن پروپیگنڈا سامنے آتا ہے کہ اثاثے غیر محفوظ ہیں۔ کبھی یوں کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر لیں گے۔ یہ ساری باتیں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ پاک فوج اور پاکستان کے عوام نے اپنے پیٹوں پر پتھر باندھ کر ایٹم بم بنایا تھا اور پاک فوج کے جوان اب اپنی جانوں پر کھیل کر اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اس قدر مضبوط ہے کہ نہ صرف اپنے بلکہ امریکی حکام بھی اس کی تعریف کرتے ہیں۔ گزشتہ روز 2014ء نیوکلیئر ٹریٹ اینی شیئٹونیوکلیئر میٹریل سکیورٹی انڈیکس جاری ہونیوالی رینکنگ میں بھارت کو 100 میں سے 41 پوائنٹ ملے ہیں جبکہ پاکستان نے 100 میں سے 46 پوائنٹ حاصل کئے ہیںاور یوں 25 ممالک پر بنائی گئی فہرست میں سے بھارت 23 ویں نمبر پر ہے۔ ان 25 ممالک کے پاس ایک کلوگرام یا اس سے زیادہ کا میٹریل موجود ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر گزشتہ روز امریکی تھنک ٹینک نے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی سکیورٹی کو انتہائی بدتر قرار دیا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ 2009ء میں جس طرح دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا تھا۔ اس طرح وہ اب ایٹمی اثاثوں پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ لیکن امریکی اداروں کی یہ خام خیالی ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اسقدر مضبوط ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایٹمی اثاثوں پر قبضے جیسے بیانات صرف پروپیگنڈا ہیں۔ اس میں کسی قسم کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔