اعتزاز حسن قوم کا ہیرو پذیرائی خوش آئند ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ

وزیراعظم میاں نوازشریف نے ہنگو میں اپنے سکول پر خودکش حملہ ناکام بنانے والے طالب علم اعتزاز حسن کو بعد از مرگ ستارہ شجاعت سے نوازنے کی سفارش کر دی ہے جبکہ پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی ہے۔ تین روز قبل ہنگو کے رہائشی اعتزاز حسن نے ابراہیم زئی سکول میں ایک خودکش بمبار کو اس وقت دبوچا تھا جب وہ صبح سکول کی اسمبلی کے وقت سینکڑوں بچوں کے قریب حملہ کرنیوالا تھا۔
ہنگو میں ابراہیم زئی سکول کے بہادر طالبعلم اعتزاز حسن نے اپنی جان پر کھیل کر سینکڑوں بچوں کی جان بچا کر ثابت کر دیا ہے کہ اگر انسان ہمت اور جرات سے کام لے تو دہشت گردوں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے بہادر نوجوان کو ستارہ شجاعت دینے کی سفارش کی ہے جبکہ ملالہ یوسف زئی نے 5 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز شہید نوجوان کی آخری آرام گاہ پر پھول چڑھائے ۔ بہادر نوجوان نے موت کو سینے سے لگا کر سینکڑوں مائوں کی گودیں اجڑنے سے بچا لی ہیں۔ حکومت اعتزاز حسن کے اس کارنامے کی میڈیا پر زیادہ سے زیادہ تشہیر کرے تاکہ عوام میں دہشت گردوں کو زیر کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اسکے علاوہ اعتزاز کے نام پر سکول قائم کیا جائے۔ اسکے نام کی سکالرشپ جاری کی جائے۔ خیبر پی کے مرکزی حکومت اس بہادر نوجوان کے کارنامے کو عام کرنے کیساتھ ساتھ اسکی فیملی کی مالی مدد بھی کرے تاکہ آئندہ بھی نوجوانوں کا دہشت گردی کیخلاف یہی جذبہ برقرار رہے۔ ایسے بہادر سپوت قابل فخر ہوتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ والدین جن کے بیٹے نے اپنی جان قربان کر کے انکے سروں کو فخر سے بلند کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ دو روز قبل کراچی میں شہید ہونیوالے ایس ایس پی چودھری اسلم کے ملزم کا جس طرح قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے کھوج لگایا ہے اور موقع پر بکھرے اعضا کے ٹیسٹ کر کے ملزم اور اسکے خاندان کے بیک گرائونڈ تک پہنچے ہیں۔ انٹیلی جنس ادارے اعتزاز حسن کے قریب اپنے آپکو خودکش حملے میں اڑانے والے خودکش بمبار کے اعضا قبضے میں لیکر اسکے بیک گرائونڈ کا بھی پتہ چلائیں اور خودکش بمباروں کی پنیری جہاں پر تیار ہو رہی ہے اس کا سدباب کیا جائے تاکہ ملک اور عوام محفوظ ہو سکیں۔