قوم کا اتحاد ہی قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
قوم کا اتحاد ہی قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے

بانی پاکستان کا66واں یوم وفات

قوم آج بانی¿ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا 66واں یوم وفات قومی اور ملی اتحاد و یگانگت کے جذبے کے ساتھ عقیدت و احترام سے منا رہی ہے۔ اس موقع پر آج سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے یوم وفات قائداعظم کے حوالے سے خصوصی ایڈیشنوں اور پروگرامز کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی جانب سے بھی آج یوم قائداعظم کی خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اسکی صدارت سالہا سال سے جناب مجید نظامی کیا کرتے تھے‘ آج سابق صدر پاکستان جناب رفیق تارڑ صدارت کرینگے۔ اسی طرح قائداعظم کی روح کو ایصال ثواب کیلئے آج تعلیمی اداروں‘ مدارس‘ مساجد اور دیگر مقامات پر خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ملک کی بقاءو سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی بھی دعائیں مانگی جائیں گی۔   
قیام پاکستان کے صرف ایک سال ایک ماہ بعد بانی¿ پاکستان کی وفات حسرت آیات ایک ایسا قومی المیہ ہے‘ جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں‘ کیونکہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے قائداعظم کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی اور مہاجرین کے سیلاب‘ بھارت کی اثاثوں کی تقسیم میں ریشہ دوانیوں‘ باﺅنڈری کمیشن کی غیرمنصفانہ کارروائیوںجن کے نتیجے میں کشمیر کے تنازعہ نے جنم لیا اور دیگر ناگزیر حالات کی وجہ سے ملکی آئین کی تدوین اور ملک کی مختلف اکائیوں کے مابین بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کے حصول میں جو تاخیر ہوئی‘ وہ قائد کی وفات کی وجہ سے مزید الجھ گئے‘ قائداعظمؒ کی زندگی میں نہ تو سول اور خاکی بیوروکریسی کو جمہوری اداروں اور سیاسی نظام میں دخل اندازی کا موقع ملتا اور نہ ملک کے مختلف سیاسی و مذہبی طبقات اور جغرافیائی اکائیوں میں اختلاف کی خلیج گہری ہوتی‘ کیونکہ قوم کے بھرپور اعتماد‘ احترام اور عقیدت کے علاہ خداداد بصیرت کی وجہ سے قائدؒ نہ صرف اتحاد و یکجہتی کی علامت تھے بلکہ لاینحل مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالامال تھے اور یہ صلاحیتیں قوم کی کشتی کو مسائل کے طوفان سے نکالنے میں صرف ہوئیں۔ صرف ایک سال کے مختصر عرصہ میں قائداعظمؒ چل بسے اور ساڑھے تین چار سال بعد انکے جانشین لیاقت علی خان بھی شہید ہو گئے۔ قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد مسلم لیگ بھی ملک کی بانی جماعت کے طور پر اپنا مضبوط اور موثر کردار ادا کرنے کے بجائے حصوں بخروں میں بٹتی چلی گئی اور اس کا فائدہ ان سیاسی ومذہبی قوتوں نے اٹھایا جن میں سے بعض یا تو قیام پاکستان کی مخالف تھیں یا پاکستان کی آئیڈیالوجی یعنی دو قومی نظریے سے اتفاق نہیں کرتی تھیں۔ مسلم لیگ کی تقسیم‘ قائداعظمؒ کے ساتھیوں کی باہمی سرپھٹول‘ آئین کی تدوین میں بے جا تاخیر اور ملک کے مختلف حصوں میں جنم لینے والے نسلی‘ لسانی‘ علاقائی اور فرقہ ورانہ اختلافات کی وجہ سے جمہوری نظام کمزور ہوا اور سول و خاکی بیوروکریسی نے پرپرزے نکالنے شروع کئے۔ قائداعظمؒ نے انگریز اور ہندو سے لڑ کر ذات برادری اور فرقے کی بنیاد پر منقسم مسلمانوں کے انبوہ کثیر کو ایک قوم بنایا تھا اور اپنی پرامن‘ سیاسی جدوجہد‘ مثالی بصیرت‘ امانت و دیانت اور مسلم عوام کے تعاون سے ایک ایسی آزاد ریاست کا قیام ممکن بنایا جسے انگریز اور ہندو پریس دیوانے کی بڑ قرار دیتا تھا مگر انکی وفات کے بعد یہ قوم پھر ایک بار بھیڑ میں تبدیل ہو گئی اور اس بھیڑ پر سول و خاکی بیوروکریسی کے بھیڑیوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔
قائداعظمؒ نے مسلم قوم کو متحد کیا‘ اسے ایک نصب العین دیا اور الگ وطن کے قیام کیلئے پرامن جمہوری جدوجہد کی راہ دکھائی‘ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے آئین کی تشکیل کا معاملہ عوام کے منتخب نمائندوں پر چھوڑا اور خود کو بطور گورنر جنرل سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ مسلم لیگ کی صدارت سے الگ کرکے پارلیمانی جمہوریت کی جانب پیش رفت کی جس میں پارلیمنٹ خودمختار اور عوام کے منتخب نمائندے ہی قومی معاملات اور حکومتی امور چلانے کے حق دار ہوں لیکن بدقسمتی سے قائداعظمؒ کی وفات اور انکے جانشینوں کی کمزوریوں کی وجہ سے سول و خاکی بیوروکریسی نے 1958ءمیں پہلی فوجی بغاوت کی راہ ہموار کرکے ملک کو جمہوریت کی پٹڑی سے اتار دیا اور پھر 1958ءسے لے کر 2007ءتک چار مارشل لاﺅں نے ملک کی عمر عزیز کے 33 سال غارت کر دیئے۔ ان فوجی ادوار میں ملک کا اتحاد و یکجہتی متاثر ہوئی‘ لسانی‘ نسلی‘ فرقہ ورانہ اور علاقائی تعصبات نے جنم لیا‘ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا عظیم سانحہ رونما ہوا اور پاکستان امریکہ کی طفیلی ریاست بن کر رہ گیا۔ قومی ادارے تشکیل نہ پا سکے‘ پہلے سے موجود ادارے کمزور ہوئے اور جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت یعنی مضبوط قومی جمہوری جماعتوں کی ساخت پرداخت نہ ہو سکی۔ اسکے اسباب میں سیاست میں موروثیت کا در آنا سیاسی قائدین کے آمرانہ رویے اور قومی پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینا بھی شامل ہے۔ شروع سے جمہوریت کو پنپنے دیا جاتا تو ارتقائی عمل کے ذریعے جمہوریت کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیاں مضبوط اور تعداد کے حوالے سے محدود ہوتیں۔ مشرف کے 2008ءمیں ختم ہونیوالے نیم جمہوری دور کے بعد جمہوریت بتدریج مضبوط ہو رہی ہے۔ 2008ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی پر قوم نے اعتماد کیا‘ وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکی تو 2013ءمیں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں زمام اقتدار تھما دی۔ پاکستان آج شدید بحرانوں اور مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ حکمران اقبال و قائد کے وارث ہونے کے دعویدار ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملک و قوم کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کی وہ کمٹمنٹ نظر نہیں آرہی جس کے حالات متقاضی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بجا طور پر پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دے کر اسکے ایٹمی اثاثوں کو بھی غیرمحفوظ قرار دے رہی ہے۔ قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری‘ فلاحی اور جدید ریاست بنانا چاہتے تھے۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے 67 سال کا عرصہ ہو گیا‘ ہم اب تک یہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ قائداعظم کے بعد آنیوالے حکمرانوں نے اپنی نااہلیت‘ ذاتی مفادات اور غیرملکی دباﺅ کو قبول کرتے ہوئے پاکستان کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا۔ قائد ایسا پاکستان ہرگز نہیں چاہتے تھے۔ آدھا 1971ءمیں گنوا دیا۔ پاکستان کی شہ رگ وادی کشمیر بدستور دشمن کے قبضے میں ہے۔ اس کو چھڑانے کے بجائے سیاچن بھی دشمن کے حوالے کر دیا۔ بھارت کی دھمکیوں اورایل او سی پر شرانگیزیوں کے باوجود قائد کی جانشینی کا دعوے کرنیوالے بھارت کے ساتھ دوستی‘ تعلقات اور تجارت کو بام عروج پر لے جانے کیلئے بے چین دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف صورت یہ ہے کہ دہلی میں حریت قائدین نے حسب ِ معمول اور روایت کے مطابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط سے ملاقات کی تو اس پر مودی اور انکی حکومت سیخ پا ہو گئی۔ بھارت نے فوری طور پر 25 اگست کے شیڈول سیکرٹری خارجہ کے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مودی نواز ملاقات کو خارج ازامکان قرار دیا۔ ملاقات کرنیوالے رہنماﺅں کو مقبوضہ کشمیر پہنچتے ہی سری نگر ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا اور ہائی کمشنر عبدالباسط پر دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی عدالت سے منظوری بھی لے لی۔ کیا ایسے حالات میں ایک خوددار ملک اپنے روایتی دشمن بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کر سکتا ہے اور تجارت کو فروغ دے سکتا ہے۔ بھارت نے بغیر اعلان کے پاکستان آنیوالے دریاﺅں میں پانی چھوڑ کر سیلاب کی تباہ کاریوں کو دوچند کر دیا۔ ایسے میں وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو آموں کا تحفہ بھجوایا۔
 آج ہمیں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے۔ سیلاب سے جھنگ میں ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں‘ سندھ میں لاکھوں افراد کا انخلاءشروع ہے۔ سیلاب جہاں سے گزر چکا‘ وہاں لوگ امداد کے منتظر ہیں۔ اب تک 400 کے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں‘ گلگت‘ بلتستان میں 11 افراد تودہ گرنے سے چل بسے۔ لاہور میں مسجد کی چھت گھرنے سے 25 نمازی جاں بحق ہوئے۔ ایک طرف سیلاب عوام پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے تو دوسری طرف دہشت گرد ضرب عضب کے باوجود دفاعی اداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سمنگلی ایئربیس کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی تو 6ستمبر کو یوم دفاع پر کراچی ڈاکیارڈ پر دھاوا بول دیا۔ وزیر دفاع کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے حمایت حاصل تھی۔ ضرب عضب کی کامیابی کیلئے پوری قوم کا اتحاد ضروری ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی پوری قوم متحد ہو کر نمٹ سکتی ہے لیکن آج قوم بکھری ہوئی ہے۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے 27 روز سے دھرنے جاری ہیں‘ ان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر تبرے کسے جاتے ہیں۔ مذاکرات جاری ہیں اور تندوتیز تقریریں بھی ہو رہی ہیں۔ جائنٹ سیشن اور دھرنوں کو فریقین تسلیم کرلیا جائے تو دونوں اپنی اپنی جگہ پر اڑے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں موجود فاضل ممبران میں معاملات کو حل کرانے والے ضرور موجود ہیں مگر جلتی پر تیل ڈالنے والوں کی اکثریت ہے۔ دھرنے میں تو ایک بھی صلح جو نہیں۔ موجودہ حالات دھرنوں‘ انکے قائدین اور ممبران پارلیمنٹ کے اشتعال انگیز بیانات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ فریقین کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔
آج قوم قائد کا 66واں یوم وفات عقیدت و احترام سے منا رہی ہے۔ قومی لیڈر شپ کو اناﺅں کے خول سے نکل کر پاکستان کو اقبالؒ و قائدؒ کی تعلیمات کیمطابق جدید‘ فلاحی‘ جمہوری ترقی یافتہ و خوشحال بنانے کا عزم کرنا ہو گا۔ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے‘ اقتدار ہے اور جو آج اقتدار سے باہر ہیں‘ ان کیلئے اقتدار میں آنے کا امکان بھی ہے۔ موجودہ نازک حالات میں جبکہ سیلاب تباہی مچا رہا ہے‘ دہشتگرد ملک کو برباد کرنے پر تلے ہیں اور دھرنا سیاست کے ذریعے جمہوریت کا پھل عوام کیلئے پھر کڑواکرنے کی سازشیں جاری ہیں۔ بانی¿ پاکستان کو قومی اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ہی خراج عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے۔