سانحہ داروغہ مسجد میں 25 نمازیوں کی جانوں کا ضیاع

ایڈیٹر  |  اداریہ
سانحہ داروغہ مسجد میں  25 نمازیوں کی جانوں کا ضیاع

لاہور کے علاقہ داروغہ والا میں مسجد کی چھت گرنے سے 25 نمازی شہید اور بچوں سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں پر کوئی بھی کام پلاننگ کے تحت نہیں ہوتا۔ زمینوں پر قبضے کر کے سوسائٹیاں بنائی جاتی ہیں جبکہ ان سوسائٹیوں کا قبضہ مستحکم کرنے کیلئے تعمیر کی پلاننگ کے بغیر راتوں رات مسجد اور مدرسہ تعمیر کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹاﺅن پلاننگ ہے نہ ہی کوئی نقشے کے مطابق انجینئر کی مدد سے بلڈنگ تعمیر کی جاتی ہے۔ عرصہ چھ سال گزرنے کے باوجود بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا۔ مسجد کا لینٹر 20 سال پرانا تھا اس لینٹر پر بغیر کسی انجینئر کی اجازت کے دوسری منزل تعمیر کی گئی۔ مسجد کا ایک مینار دوسری منزل پر گرا اور لینٹر وزن برداشت نہ کر سکا تو پہلی منزل پر گرا جو 25 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا۔ یہ سب انتظامیہ کی نااہلی کا نتیجہہے جس نے بغیر کسی پلاننگ کے لوگوں کو بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ایل ڈی اے حکام بھاری معاوضہ لینے کے باوجود ٹاﺅن پلاننگ کرنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہے ہیں۔ حکومت پنجاب سانحہ داروغہ مسجد کی انکوائری کروا کر ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوائے۔ کچی آبادیوں اور دیگر نئے بننے والے ٹاﺅنز میں کسی نقشہ اور پلاننگ کے تحت لوگوں کو مکان تعمیر کرنے کی اجازت دے۔ رہائشی علاقوں میں گلیوں کا کشادہ ہونا بہت ضروری ہے۔ تاکہ کسی ایسی ناگہانی آفت میں بھاری مشینری موقع پر پہنچ سکے۔