چیئرمین سینٹ کیلئے رضاربانی پر حکومت اور اپوزیشن کا خوش آئند اتفاق

ایڈیٹر  |  اداریہ
چیئرمین سینٹ کیلئے رضاربانی پر  حکومت اور اپوزیشن کا خوش آئند اتفاق

پیپلز پارٹی‘ متحدہ، ق لیگ اور اے این پی نے پیپلز پارٹی کے سنیٹر رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ کیلئے اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ جس کی وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی حمایت کر دی ہے جبکہ حکومت نے اپنا ڈپٹی چیئرمین بھی نامزد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چیئرمین سینٹ کیلئے پیپلز پارٹی کے پاس ووٹ پورے تھے۔ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد آصف زرداری نے رضاربانی کو چیئرمین سینٹ کیلئے نامزد کیا اور یہ نام ملک جمہوریت اور اپوزیشن سب کیلئے قابل قبول ہے۔ رضا ربانی ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں جو اپنی پارٹی پالیسی پر عمل کرتچے ہوئے بھی اصولوں کی پاسداری پیش نظر رکھتے ہیں۔ سینٹ میں طویل عرصہ سے بیٹھنے کا اعزاز حاصل ہے اور اس ناطے سے وہ سینٹ کو چلانے کے قواعد سے پوری طرح آگاہ ہیں۔پی پی پی کے پاس ان سے بہتر کوئی امیدوار نہیں تھا اور انکی نامزدگی سے ہی چیئرمین سینٹ کیلئے حکومتی اور اپوزیشن تمام جماعتوں کا اتفاق ممکن ہوا ہے۔ مسلم لیگ ن نے بھی اچھا کیا جو چھوٹے سیاسی گروپوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بجائے اس نے پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار کی حمایت کی ہے۔ اس سے جمہوریت مستحکم ہو گی اور حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں قانون سازی کر سکے گی۔ مسلم لیگ ن اگر اپنا امیدوار نامزد کرتی تو اسے یقینی طور پر چھوٹی سیاسی جماعتوں کے مطالبات پورے کرنے پڑتے۔ جے یو آئی نے تو ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا مطالبہ بھی کر دیا تھا اسی طرح دیگر چھوٹی جماعتیں بھی حصہ بقدر جثہ کا مطالبہ کرسکتی تھیں اور اس پر ہارس ٹریڈنگ کے خطرات بھی زیادہ تھے۔ میاں نواز شریف نے بڑی دانش مندی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کرکے بلیک میلروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا بھی اسی طرح مل کر انتخاب کرنا چاہئے۔ رضا ربانی جیالے ہونے کے باوجود دانشمند سیاست دان ہیں جن سے بجا طور پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو غیر جانبدار رکھ کر ایوان کو خوش اسلوبی سے چلانے میں کامیاب رہیں گے جس طرح تمام سیاسی جماعتوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے انہیں بھی اس اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کرنا ہو گی۔