وزیر پانی و بجلی کا ملک میں پانی کا قحط پیدا ہونے کا عندیہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
وزیر پانی و بجلی کا ملک میں پانی کا قحط پیدا ہونے کا عندیہ

وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پانی کی قلت سنگین مسئلہ ہے ہمیں ملکی بقا کیلئے پانی کو محفوظ رکھنا ہو گا، ان کے بقول بجلی بحران پر تو تین سال میں قابو پالیںگے مگر پانی کا مسئلہ طویل مدتی ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ سات سال بعد پانی کا قحط پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ آبی تنازعات حل کرنا چاہتا ہے۔ اگر بھارت نے ہمارے آبی حقوق کی خلاف ورزی کی تو ہم اپنا مقدمہ مناسب فورم پر لڑیں گے۔
پانی کی بتدریج پیدا ہونیوالی قلت کا مسئلہ بلاشبہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جسے حل کرنا حکومتی پالیسیوں کی ترجیح اول ہونا چاہئے مگر بدقسمتی سے ہماری کسی بھی حکومت کی جانب سے نہ صرف دستیاب قدرتی آبی وسائل کی ترسیل کا نظام بہتر بنانے کی جانب کوئی توجہ نہ دی گئی بلکہ ہمارا پانی روکنے کی بھارتی سازشوں کا بھی کوئی مؤثر توڑ نہیں کیا گیا۔ پہلے تو ایوب خان کے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ آبی تنازعہ ختم کرنے کے نام پر سندھ طاس معاہدہ کر کے پاکستان خود ہی اپنے تین دریائوں سے دستبردار ہو گیا اور دوسرے تین دریائوں پر پہلے ڈیم تعمیر کرنے کے حق سے بھی استفادہ نہ کر سکا جس سے بھارت کو ان دریائوں پر بھی چھوٹے بڑے ڈیمز کے انبار لگا کر ہمارے حصے کا پانی اپنے زیر استعمال لانے کا موقع ملا اور اسے ہمارا پانی روک کر ہماری زرخیز زمین کو بنجر کرنے میں بھی دسترس حاصل ہو گئی۔ ہمارے حکمرانوں اور واٹر کمشنروں کی بے عملی اور ان میں سے بعض کے بھارت کی جانب جھکائو نے ہی آج ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ ہم پانی کی شدید قلت کے بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے کالا باغ اور دوسرے ڈیم تعمیر کر کے انکے ریزرو واٹر میں پانی سٹور کر لیا ہوتا تو ہمیں پانی کی قلت کی موجودہ صورتحال کا کبھی سامنا نہ کرنا پڑتا جبکہ پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر اب خود اعتراف کر رہے ہیں کہ آئندہ سات برس میں ہمیں پانی کے قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ نوبت حکومتی پالیسیوں کی خامیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے تو قوم یہ سوچنے میں حق بجانب ہو گی کہ ہمارے حکمران طبقات ملک کی بقا و سلامتی کیلئے مخلص ہیں بھی یا نہیں۔ اس صورتحال میں متعلقہ وفاقی وزیر کو پانی کی قلت پر محض تشویش کا اظہار نہیں کرنا چاہئے بلکہ آبی جارحیت کی بھارتی سازشوں کا مؤثر توڑ کر کے اس سے اپنے حصے کا پانی واپس لینا چاہئے اور کالا باغ ڈیم کے مخالفین کے احتجاج کی پرواہ کئے بغیر اسکی اور دوسرے مجوزہ ڈیمز کی تعمیر کا کام شروع کر دینا چاہئے ورنہ کل کو ملک کی بربادی پر تاسف کی لکیر پیٹنے کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔