بیلسٹک میزائل شاہین 3 کا کامیاب تجربہ اورآرمی چیف کا دیرینہ تنازعات حل کرانے پر زور خطے کے امن کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے عالمی برادری بلاتاخیرمسئلہ کشمیر حل کرائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
بیلسٹک میزائل شاہین 3 کا کامیاب تجربہ اورآرمی چیف کا دیرینہ تنازعات حل کرانے پر زور خطے کے امن کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے عالمی برادری بلاتاخیرمسئلہ کشمیر حل کرائے

پاکستان نے طویل فاصلے پر مار کرنیوالے بیلسٹک میزائل شاہین 3 کا کامیاب تجربہ کیا ہے، زمین سے زمین تک مار کرنیوالا بیلسٹک میزائل شاہین 3 ہر قسم کے روایتی اور ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین 3 میزائل 2 ہزار 750کلو میٹر تک اپنے ہدف کو باآسانی نشانہ بناسکتا ہے۔ دریں اثناء چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے لاہور میں دسویں انفنٹری ڈویژن کی 100 ویں سالگرہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ تصادم روکنے کیلئے ڈیٹرنس اور مضبوط نیوکلیئر نظام کا ہونا ضروری ہے۔ اس نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایک سو سال پہلے دنیا کی پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تھی۔ جنگ کی روک تھام کیلئے مضبوط ڈیٹرنس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی آپریشنل تیاریاں بہت ضروری ہیں۔ یہ تیاریاں جنگ کیلئے نہیں بلکہ امن کے فروغ کیلئے ہونی چاہئیں۔ پہلی جنگ عظیم کے سو سال مکمل ہونے پر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی تنازعات حل کرانے کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ پہلی جنگ عظیم تیار رہنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، عالمی برادری کو طویل مدت سے جاری تنازعات حل کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں‘ دیرینہ مسائل حل کرنے کیلئے صرف قراردادیں کافی نہیں ان پر عمل بھی ہونا چاہئے۔
بھارت اسلحہ کی خریداری میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس کا سارا جنون خطے میں کسی اور کے نہیں صرف پاکستان کیخلاف ہے۔ بھارت نے دنیا میں جہاں سے بھی ممکن ہے‘ اسلحہ خریدا‘ اس میں روایتی اور غیرروایتی دونوں قسم کا اسلحہ شامل ہے۔ بڑی طاقتوں کے تعصب بلکہ پاکستان سے خدا واسطے کے بیر کے سبب بھی بھارت کی اسلحہ کے انبار لگانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کا یکساں سٹیٹس ہے مگر امریکہ سمیت کئی ممالک بھارت کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ نہ صرف امریکہ خود تعاون کرنے پر تیار نہیں بلکہ وہ دیگر ممالک کو بھی پاکستان کے ساتھ اس حوالے سے معاہدے کرنے سے باز رہنے کو کہہ چکا ہے۔
پوری دنیا دو بلاکوں میں تقسیم تھی۔ ہر ترقی پذیر ملک کی امریکہ اور روس میں سے کسی ایک کے ساتھ وابستگی مجبوری تھی۔ روس کے ٹوٹنے اور امریکہ کے دنیا کی واحد سپرپاور بننے کے بعد عالمی توازن بگڑا اور اکثر ممالک نے امریکہ سے وابستگی میں عافیت جانی۔ روس ٹوٹ کر کمزور ہوا وہ امریکہ کے مقابلے کی قوت تو نہ رہا مگر اسکی اپنی ایک حیثیت و اہمیت یقیناً ہے۔ وہ ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک میں شامل ہے۔ عالمی سیاست پر امریکہ کی طرح نہ سہی‘ پھر بھی کافی حد تک اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ دنیا کے اسلحہ ساز اور اسلحہ فروخت کرنیوالے چند ممالک میں شامل ہے۔ بھارت بیک وقت امریکہ اور روس سے اسلحہ خریدتا ہے۔ بھارت کو اسلحہ سپلائی کرنیوالے دیگر ممالک میں فرانس‘ اسرائیل‘ برطانیہ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں‘ آسٹریلیا سے نیوکلیئر نیول کا معاہدہ روبعمل ہے۔ روس سے فائٹر اور بمبار طیاروں کی خریداری تو قصہ پارینہ ہو چکی‘ ماضی قریب میں روس سے بھارت نے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاہدے کئے اور بحریہ کیلئے ایٹمی آبدوزیں خریدی ہیں۔ اوباما بھارت کے دورے پر آئے تو چار بحری بیڑوں کی تیاری میں تعاون کا معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور بھارت کا آبادی‘ رقبے‘ فوج کی تعداد اور اسلحہ کی مقدار کے حوالے سے ایک اور سات کا فرق ہے۔ بھارت نے اسی فرق کے زعم میں پاکستان کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ 1971ء میں تو اس نے جارحیت اور سازش سے پاکستان کو دولخت بھی کر دیا تھا۔ وہ باقی بچے پاکستان کو بھی اب تک اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہڑپ کر چکا ہوتا‘ یہی اس کا اکھنڈ بھارت ایجنڈا ہے مگر اسکی راہ میں آج سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے جو معیار کے حوالے سے بھارت کے پروگرام سے کہیں بہتر ہے۔ معمار نوائے وقت جناب مجید نظامی مرحوم کہا کرتے تھے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام بھارت کے کھوتوں کے مقابلے میں گھوڑوں کے مترادف ہے۔ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام ہی کا خوف ہے کہ بھارت جارحیت کے بجائے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے سازشیں کرتا ہے جس کے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے پاس واضح ثبوت ہیں۔ تاہم بھارت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ کسی بھی موقع پرپاکستان کیخلاف جارحیت کا ارتکاب کردے۔ اسکے ایک فوجی سربراہ نے دفاعی طاقت کے خمار میں ایک مرتبہ اسلام آباد اور بیجنگ کو 96 گھنٹے میں ٹوپل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ نریندر مودی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر بھارت کی اشتعال انگیزی اسکی طرف سے طاقت کی خماری کا اظہار ہے۔
بھارت کا جنگی جنون اسکے ہر سال کے دفاعی بجٹ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ چند ہفتے قبل اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں ایک بار پھر اضافہ کیا ہے۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں دفاعی بجٹ میں چار ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہے۔ دفاع کیلئے اب 40 عشاریہ 7 ارب ڈالر مختص کر دیئے گئے ہیں۔ گزشتہ سال بھارت نے اپنے دفاع پر 36 ارب ڈالر خرچ کئے تھے۔ بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے لوک سبھا میں یکم اپریل سے شروع ہونیوالے مالی سال کا بجٹ 28 فروری کو پیش کیا اور اعلان کیا کہ بھارت کے ایک ایک انچ کا دفاع ہر چیز سے مقدم ہے اور اس مقصد کیلئے ہی فوجی اخراجات میں 7 عشاریہ 9 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ بھارت کے مجموعی اخراجات کا حجم 288 ارب ڈالر بنتا ہے جس کا تقریباً 14فیصد حصہ فوجی اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔ بھارت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافے کا مقصد جیٹ لڑاکا طیارے ،جہاز اور توپ خانہ بنانا ہے۔ پاکستان کا تو مجموعی بجٹ بھارت کے دفاعی بجٹ کے تقریباً برابر ہے۔
پاکستان بھارت کا دفاعی محاذ پر اسلحہ کی مقدار اور فوجوں کی تعداد کے حوالے سے ہم پلہ نہیں ہو سکتا تاہم اپنے اسلحہ کو معیاری بنا کر بھارت کا مقابلہ کر سکتا ہے اور ایسا کیا بھی جا رہا ہے۔ ایٹم بم کے بعد بیلسٹک میزائل شاہین تھری کا کامیاب تجربہ اسکی ایک مثال ہے۔ اب پورا بھارت اس میزائل کی رینج میں آگیا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے درست کہا ہے کہ جنگ سے بچنے کیلئے جنگ کی تیاری ضروری ہے۔ کم از کم ڈیٹرنس کی ضرورت ہے جو پاکستان نے قائم کیا اور برقرار رکھا ہوا ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان اور بھارت اپنے اپنے دفاع پر اٹھنے والے بھاری اخراجات عوامی فلاح و بہبود اور ان لوگوں کی زندگیاں آسان بنانے کیلئے صرف کرتے جو خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تعلیم اور صحت کے حوالے سے دونوں ممالک میں یکساں پسماندگی ہے مگر اس کا ذمہ دار بھارت ہے جس کیلئے پاکستان کا وجود برداشت سے باہر ہے۔ اس نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کرکے ایک مستقل مسئلہ کھڑا کر دیا۔ یہاں بھی عالمی برادری کا تعصب واضح ہے۔ مسئلہ کشمیر 66 سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے مگر وہ اس طرح حل کرنے پر آمادہ نہیں جس طرح جنوبی سوڈان اور ایسٹ تیمور کو آزادی دلا دی تھی۔ مسئلہ کشمیر خطے میں بدامنی کا باعث ہے جس پر عالمی امن بھی یقیناً متاثر ہوتا ہے۔ عالمی برادری نے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں اپنا بے پروائی کا رویہ جاری رکھا تو خطے کا امن بدتر صورت اختیار کر سکتا ہے جس کے عالمی امن پر بھیانک اثرات مرتب ہونے سے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ عالمی برادری اس ہولناک صورتحال سے بچنے کیلئے بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ کرے۔ آرمی چیف نے پہلی جنگ عظیم کے اسباب کا اسی لئے حوالہ دیا ہے کہ اب دنیا بھارتی جارحانہ عزائم کو روک کر تیسری جنگ عظیم کی ممکنہ تباہ کاریوں سے خود کو بچالے۔