ایم او یو کی بجائے اب بجلی پیدا کی جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
ایم او یو کی بجائے اب بجلی پیدا کی جائے

بجلی گھروں کو تیل و گیس کی کم فراہمی اور موسم میں تبدیلی اور درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ طلب اور رسد میں واضح فرق ہونے کی وجہ سے تقسیم کار کمپنیاں 10 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کر رہی ہیں۔ دوسری طرف ملک میں مجموعی طور پر بجلی کا خسارہ 2600 میگا واٹ ہے۔
موسم تبدیل ہوتے ہی بجلی کی مانگ بڑھ گئی ہے لیکن حکومت گزشتہ نو مہینے سے صرف ایم او یو سائن کر رہی ہے۔ مسلم لےگ (ن) کو عوام نے لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی اور بدامنی سے متعلق مسائل کے حل کیلئے ووٹ دئیے تھے اور مسلم لےگ (ن) نے ان چیزوں کو اپنے منشور میں شامل کیا تھا، لیکن ابھی تک حکومت نے اپنے اس منشور پر ذرا برابر کام نہیں کیا۔ وزیر اعظم میاں نواز شرےف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کیا تھا اور اس دورے کا مقصد ملک کو توانائی بحران سے نجات دلوانا تھا۔ اب چین کی کمپنیاں 22ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کر چکی ہیں۔ اسکے علاوہ ترک کمپنیاں بھی انوسٹ کر رہی ہیں لیکن یہ سب کچھ کاغذوں تک محدود ہے۔ حکومت نے ابھی تک کسی بھی منصوبے پر کام شروع نہیں کیا۔ اب جوں جوں موسم گرم ہو گا‘بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہو گا۔ لوڈشیڈنگ پر عوام احتجاج کرینگے لیکن حکومت شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر بیٹھی ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور توانائی بحران پر قابو پانے کے عملی اقدامات شروع کرے۔ تاکہ موسم گرما میں عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔