مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج سے سیاسی بحران مزید بڑھے گا

ایڈیٹر  |  اداریہ
مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج سے سیاسی بحران مزید بڑھے گا

مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ‘ دونوں بڑی اکثریتی پارٹیاں بی جے پی اور پی ڈی پی حکومت بنانے میں ناکام‘ عمر عبداللہ وزارت اعلیٰ کے عہدے سے دستبردار‘ سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا۔ گورنر این اے وھرہ نے اختیارات سنبھال لئے۔
23 دسمبر کے نام نہاد ریاستی الیکشن میں کوئی بھی جماعت کشمیر اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی 28 اور بھارتیہ جنتا پارٹی 25 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہیں۔ مگر ان دونوں کے درمیان ابھی تک حکومت سازی کے لئے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ پی ڈی پی پر اندرون کشمیر ووٹروں اور سیاسی جماعتوں کا زبردست دبا¶ ہے کہ وہ بی جے پی کو مسلم اکثریتی وادی میں پا¶ں جمانے کا موقع نہ دے ورنہ تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی اور یہی حقیقت بھی ہے۔ اس الیکشن نے کشمیری رائے عامہ کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ایک طرف جموں اور لداخ کے غیر مسلم اکثریتی علاقے ہیں جہاں مکمل طور پر بی جے پی اور چند سیٹوں پر جہاں مسلمان زیادہ ہیں کانگریس کامیاب ہوئی اور دوسری طرف مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں پی ڈی پی اور دیگر کشمیری جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں اب اگر پی ڈی پی ان مقامی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بناتی تو یہ بہتر تھا کشمیری عوام بھی خوش ہو جاتے مگر اس کا جموں اور لداخ میں غلط مطلب لیا جاتا اور مرکز یعنی دہلی سے بھی ممکنہ ترقیاتی کاموں کے لئے اخراجات اور مالی سرپرستی نہ ملتی۔ جس کی وجہ سے ترقیاتی کام ٹھپ ہو جاتے۔ یوں پی ڈی پی مشکل میں پھنس چکی ہے۔ عمر عبداللہ نے پی ڈی پی پر گورنر راج کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے 2 مقامی جماعتوں کی طرف سے تعاون و حمایت کے باوجود حکومت بنانے میں دلچسپی نہیں لی ہے۔ ان حالات میں کشمیر میں گورنر راج نے جاری سیاسی بحران کو سنگین کر دیا ہے اور خطرہ ہے کہ مودی سرکار اس سے توجہ ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ میں مزید شدت لائے گی تاکہ گورنر راج کے تحت کشمیر میں معاملات اپنے ہاتھ میں اس وقت لئے رکھے گی جب تک وہاں مطلوبہ مقاصد اور نتائج حاصل نہیں کر لیتی۔