سری لنکا کے الیکشن میں بھارتی لابی کامیاب

ایڈیٹر  |  اداریہ
سری لنکا کے الیکشن میں بھارتی لابی کامیاب

سری لنکا کے صدر مہندرا راجہ پاکسے نے انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی۔ تقریباً دس سال سے برسراقتدار صدر مہندرا راجہ پاکسے کے دفتر سے جاری ہونےوالے بیان کے مطابق انہوں نے صدارتی انتخابات میں شکست تسلیم کر لی ہے۔ ملک کے نئے صدر میتھولی پالاسری سینیا نے جمعہ کی شام اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
سری لنکا میں قبل از وقت پُرامن اور شفاف انتخابات جمہوریت کی مضبوطی کی دلیل ہے۔ پاکسے 10 سال تک صدارت کے منصب پر فائز رہے‘ لیکن عوام میں عدم مقبولیت کی بنا پر انہوں نے قبل از وقت الیکشن کروا کر عوام کے فیصلے کو قبول کیا۔ نومنتخب صدر سری سینیا نے 52 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے جبکہ پاکسے 46 فیصد ووٹ حاصل کر سکے‘ لیکن صدر پاکسے نے عوامی فیصلے کے سامنے سرنگوں کرکے اچھی روایت قائم کی ہے۔ نومنتخب صدر سری سینیا پہلے راجہ پاکسے کی کابینہ میں وزیر صحت تھے‘ یہ بھارت کے بہت قریبی سمجھے جاتے ہیں اس لئے بھارتی لابی نے انہیں وزارت صحت سے استعفیٰ دلوا کر صدارتی امیدوار بنایا اور پھر کامیابی دلا کر صدارتی کرسی پر بھی بٹھا دیا۔ بھارت اس خطے میں چائینہ کی طاقت کو چیلنج کرنے کیلئے ایک لابی بنا رہا ہے جس کی ابتدا سری لنکا کے صدارتی الیکشن سے شروع ہوچکی ہے۔ پاکستان کو حالات اور خطے کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیکر چائینہ کی مدد سے اس کا توڑ کرنا چاہئے اور بھارتی ذہنیت سے دنیا بھر کوآگاہ کرنا چاہیے۔ بھارتی وزیراعظم مودی ایک خاص مشن پر کام کر رہے ہیںپاکستان اور سری لنکا کے درمیان گہری دوستی ہے‘ اب ضرورت یہ ہے کہ پاکستان سری لنکا میں اپنی سفارت کاری تیز کرے اور سری لنکن شہریوں میں پاکستانیوں کیلئے احترام اور دوستی کے جذبے کو بھارتی عزائم سے ٹھیس نہ آنے دے۔