دہشتگرد اور فرقہ ورانہ فساد پھیلانے والے کسی لحاظ کے لائق نہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
دہشتگرد اور فرقہ ورانہ فساد پھیلانے والے کسی لحاظ کے لائق نہیں

راولپنڈی میں امام بارگاہ کے سامنے بم دھماکہ 7 افراد جاں بحق ‘ لاہور میں واہگہ حملے کا ماسٹر مائنڈ ساتھیوں سمیت ہلاک

راولپنڈی کے علاقے چٹیاں ہٹیاں میں امام بارگاہ کے سامنے بم دھماکہ کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 18 شدید زخمی ہوگئے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے امام بارگاہ کا مرکزی دروازہ کھڑکیاں ٹوٹ گئے جبکہ آس پاس کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ امام بارگاہ کے سامنے والے گھر کی دیوار بھی زمین بوس ہوگئی۔ دھماکے کے وقت امام بارگاہ میں محفل میلاد ہو رہی تھی۔ خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جسے سکیورٹی پر مامور افراد نے روک لیا۔ عینی شاہدین نے بھی اسے خود کش دھماکہ بتایا پولیس نے جائے دھماکہ سے حملہ آور کے جسمانی اعضائ‘ دھماکہ خیز مواد کے نمونے اور دیگر شواہد قبضے میں لے لئے۔ امام بارگاہ کے اندر 150 کے قریب افراد موجود تھے اور سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو اندر داخل ہونے سے روک کر بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
ضرب عضب کے دوران دہشت گردوں کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے‘ دو اڑھائی ہزار دہشت گرد شمالی وزیرستان میں ہلاک کر دیئے گئے‘ اکثر وزیرستان سے فرار ہو کر جہاں پناہ ملی‘ چھپ گئے۔ انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں منظم ہونے کی کوشش کی اور خودکش حملوں و بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ سمنگلی ایئربیس اور نیول ڈاکیارڈ کراچی کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی۔ فوج کیطرف سے کہا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خاتمہ کے بعد پورے ملک میں ان کا پیچھا کیا جائیگا۔ دہشت گردی کی نئی کارروائیوں کے بعد پاک فوج نے اپنی حکمت عملی بدلی اور ضرب عضب کے دوران ہی دہشت گردوں کا پورے ملک میں تعاقب شروع کر دیا۔ اسکے بعد زخم خوردہ دہشت گرد بزدلانہ حملوں پر اتر آئے۔ سکولوں جیسے آسان ٹارگٹس کا تعین کرنے لگے‘ پشاور میں ڈیڑھ سو بچوں کی شہادت ایسی ہی بزدلی کا شاخسانہ ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں امام بارگاہ میں محفل میلاد کو ٹارگٹ کیا گیا‘ کیا ایسا کرنیوالے‘ انکے سہولت کار اور حامی کسی بھی رورعایت کے حق دار ہیں؟
آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشتگردوں کی بربریت اور سفاکیت کے بعد فوری طور پر کئی سال سے سزائے موت پر لگی پابندی اٹھالی گئی۔ دہشتگردوں کی سزائے موت پر عمل شروع ہوا تو اس پر کچھ مذہبی حلقے تلملا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کا کہنا ہے کہ امریکہ کو خوش کرنے کیلئے اسلام پسندوں کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان خصوصی عدالتوں کے قیام پر طیش میں آگئے۔ پہلے کہا کہ مذہب اور فرقہ کے الفاظ ہذف کئے جائیں‘ اب کہتے ہیں ان الفاظ پر اعتراض نہیں۔ قبلہ! تو پھر اعتراض کس پر ہے؟ کیا سارا شورشرابہ وزارتوں کے حوالے سے ہل من مزید کیلئے تھا؟ یا دہشتگردوں نے اے پی سی میں آمنا و صدقنا کہنے کے بعد مکرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مولانا فضل الرحمان پر تین بار حملہ کرکے انہیں موت کی وادی میں پہنچانے کی کوشش اور بعدازاں حملوں کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔ ان کا خاتمہ خود مولانا کی بقاءکیلئے بھی ضروری ہے۔ پھانسیاں دہشتگردوں کو لگ رہی ہیں جن کو مروجہ قوانین کے تحت صفائی اور سزا کے بعد اپیلوں کا موقع دیا گیا۔ سراج الحق کے نزدیک اگر یہ اسلام پسند ہیں تو بتائیں پھر اسلام‘ پاکستان اور انسان دشمن کون ہیں؟ فوجیوں کو گروپوں کی شکل میں ذبح کردینا اور بچوں کو سینکڑوں کی تعداد میں گولیوں سے اڑاکے رکھ دینا ‘انکے سامنے خواتین اساتذہ تک کو جلا دینا کیااسلام پسندی ہے؟
دہشت گردوں نے پنڈی امام بارگاہ پر حملہ کے ساتھ اسی روز گوادر اور اورکزئی میں راکٹ حملوں میں پانچ اہلکاروں کو بھی شہید کیا۔ ایک دو روز قبل کراچی میں انہوں نے حملے کئے تھے‘ جوابی کارروائی میں کئی ہلاک کردیئے گئے۔ شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں بھی ان کا قلع قمع ہو رہا ہے۔ خود کو بد انجام سے دوچار ہوتا دیکھ کر دہشت گرد ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں۔ فوج کی طرف سے عزم ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آخری دہشت گرد کا خاتمہ کرکے ہی وہ دم لے گی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں دہشت گردوں کی کھلے بندوں حمایت کی جاتی ہے اور یہ لوگ ہر محکمے‘ ادارے اور شعبے میں اثر رکھتے ہیں‘ ان کا خاتمہ ایک مشکل ٹارگٹ ہے مگر ناممکن نہیں‘ بالخصوص ان حالات میں جب پوری قوم اس کاز کیلئے متحد‘ پاک فوج اور حکومت ایک پیج پر ہے۔ مزید براں خصوصی حالات میں خصوصی قوانین بنا لئے گئے اور آئین میں ترمیم کردی گئی ہے۔ جمہوری دور میں فوجی عدالتوں کا قیام جمہوریت کیلئے خوش آئند نہیں ہے۔ اس حوالے سے کئی حلقوں کے تحفظات بجا تھے‘ باامر مجبوری یہ آپشن اختیار کیا گیا۔ اب فوجی عدالتیں آئین میں ترمیم کے ذریعے قائم ہو رہی ہیں تو انکی کامیابی کیلئے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اب کسی کیلئے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بلاشبہ ہماری عدالتوں میں جرا¿ت مند جج موجود ہیں‘ آج جیلوں میں آٹھ ہزار سزائے موت کے قیدی ہیں‘ ان میں پانچ سو دہشت گردی میں ملوث تھے‘ ان میں سے اکثر کو سول عدالتوں نے ہی پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ جج مصلحتوں اور خوف کا شکار ہو کر انصاف پر مبنی فیصلے کرنے سے کتراتے رہے ہیں‘ اسی لئے خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں۔ اب ایک عجیب صورتحال سامنے آرہی ہے۔ ادھر ڈیتھ وارنٹ جاری ہوتے ہیں‘ اُدھر عدالتیں ان پر عملدرآمد روک رہی ہیں۔ کچھ حلقے اسے عدلیہ کی فوجی عدالتوں کے قیام پر بے چینی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یہ سزائیں خود سول عدالتوں نے سنائی ہیں۔ ان پر عمل ہو رہا ہے تو اسکی راہ میں رکاوٹ کیا اپنے ہی فیصلوں پر عدم اعتماد نہیں ہے؟
آج پورے ملک میں سکیورٹی الرٹ ہے۔ خصوصی قوانین اور عدالتیں بن چکی ہیں‘ پہلے مرحلے میں پورے ملک میں 9 فوجی عدالتیں تشکیل پا گئیں۔ ایسے میں پنڈی حملے جیسے واقعات میں کمی آجانی چاہئے۔ اس واقعہ کو سکیورٹی لیپس قرار دیا جا سکتا ہے تاہم امام بارگاہ پر تعینات محافظوں نے خودکش بمبار کو گیٹ پر روک کر ذمہ داری اور سکیورٹی کے الرٹ ہونے کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ خفیہ والے خودکش بمبار کا سراغ واردات سے پہلے لگا لیتے تو بہتر تھا۔
حکومت کے ایکشن پلان پر کام شروع ہو چکا ہے‘ اس پر مکمل عملدرآمد سے دہشت گردوں کا انجام قریب تر ہوتا جائیگا۔ اسی ایکشن پلان کے تحت کئی شہروں سے تشدد کا پرچار کرنیوالے 60 مولوی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث 68 افغان باشندے گرفتار کئے گئے۔ لاہور میں داعش کے تعلق سے شبہ میں دو افراد کو تخریبی لٹریچر برآمد کرکے گرفتار کیا گیا۔ لاہور میں پولیس مقابلہ میں واہگہ دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ واہگہ دھماکے میں گرفتار افراد کی مخبری پر حساس اداروں اور پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ شروع کر دی جس میں دو مارے گئے جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر اسداللہ نے خود کو بارودی مواد سے اڑا لیا۔ اس کا تعلق فضل اللہ گروپ سے تھا۔ جن لوگوں نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی تھی‘ کیا ان کو اور انکے گھر کو سلامت رہنا چاہیے؟ یہ لوگ بھی سراج الحق کے بقول اسلام پسند ہیں؟ فوج‘ حکومت اور قوم آج دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے‘ اسی جذبے کے تحت سب نے اپنا کردار ادا کیا تو انشاءاللہ دہشت گردوں کا جلد خاتمہ ہو گا اور قوم کو دہشتگردی کے ناسور سے نجات مل جائیگی۔ اب جبکہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پوری قوم میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایکشن پلان پر جتنا جلد ممکن ہو‘ عملدرآمد یقینی بنائے۔