جعلی عاملوں کا محاسبہ کر کے توہم پرستی ختم کی جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
جعلی عاملوں کا محاسبہ کر کے توہم پرستی ختم کی جائے

مٹیاری سے متصل سندھ کے شہر ہالہ ٹاﺅن میں ذہنی مریض شخص نے عامل کے کہنے پر دولت پانے کیلئے اپنے 5 کمسن بچوں کو گلے دبا کر مار ڈالا۔ 50 سالہ ملزم علی نواز لغاری کا اپنی بیوی سے غربت، تنگدستی کے باعث اکثر جھگڑا رہتا تھا، دولت پانے کیلئے عامل کے ہتھے چڑھا اور چلہ بھی کاٹنے لگا۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے یہاں پر بسنے والے مسلمان ایک خدا ایک رسول کو ماننے والے ہیں لیکن دین سے دوری کے باعث جادو، ٹونا، جنتر منتر اور تعویذات پر یقین کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ ضعیف الاعتقاد افراد کو نام نہاد جادوگر اپنا گرویدہ بناتے ہیں پھر پیسے بٹورنے کیلئے انہیں تعویذات دئیے جاتے ہیں۔ مذہب سے دوری اور قرآنی تعلیمات سے ناواقفیت کے باعث ہم روحانی، جسمانی اور نفسیاتی عارضوں سے چھٹکارے کیلئے ڈبے پیروں کے پاس جا کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز مٹیاری سے متصل شہر ہالہ ٹاﺅن میں سفاک باپ نے 5 کمسن بچوں کو گلا دبا کر مار دیا۔ اس سے قبل ملتان میں پیر کے بتانے پر ایک نوجوان نے گھر میں چھپے خزانے کی کھوج میں سرنگ کھودی اور بالآخر سرنگ بیٹھنے کے باعث وہ اندر ہی دم توڑ گیا۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ایسے جعلی بابوں اور عاملوں کے خلاف بھی کریک ڈاﺅن کرنا چاہئے۔ توہم پرستی کو فروغ دینے والے دو نمبر پیروں کو پکڑا جائے، کم علم لوگ شارٹ کٹ کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں حالانکہ کم عقلوں کو اتنا تو سوچنا چاہئے کہ جعلی پیر فقیر کے وظیفے سے اگر انہیں سونا مل سکتا ہے تو یہ سونا پیر فقیر نے خود کیوں حاصل نہیں کیا۔ یہ پیر خود امیر کیوں نہیں ہو رہا۔ اس توہم پرستی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہم سب کو کردار ادا کرنا چاہئے اور جعلی ڈاکٹروں کی طرح جعلی پیروں اور عاملوں کی نشاندہی کرنی چاہئے۔