چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بھرپور عہد کا اختتام اور جوڈیشل ایکٹوازم کے آئندہ کے تقاضے …… انصاف کی عملداری کے متعینہ اہداف کی تکمیل اب نئے چیف جسٹس کیلئے چیلنج ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ

چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری آج 11؍ دسمبر کو اپنی عدالتی ذمہ داریوں کا آخری دن گزار کر اپنی عمر کے 65 سال پورے ہونے پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی انکی جانب سے ملک کی عدلیہ کو تاریخ ساز مراحل سے گزارنے کے باب کی بھی تکمیل ہو جائیگی۔ آج سپریم کورٹ صدر نشست اسلام آباد میں انکے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا اہتمام کیا جائیگا جس میں عدالت عظمیٰ کے سینئر پیونی جج اور نامزد چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی‘ اٹارنی جنرل پاکستان‘ ایڈووکیٹ جنرل حضرات‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین انکی بطور جج اور بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ عدالتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرینگے جبکہ اس ریفرنس کے بعد انکی عدالتی زندگی بھی ان سے وابستہ کارناموں کی یادوں کو سمیٹتے ہوئے اختتام پذیر ہو جائیگی اور انکی تقریباً آٹھ سال پر محیط عدالتی قیادت کی تکمیل کے بعد کل12 دسمبر کو نئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی قیادت میں عدلیہ کے نئے دور کا آغاز ہو جائیگا۔
بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے منصف اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے آٹھ سالہ عہد میں جہاں عدلیہ کی فعالیت کو نئے پیرائے میں ڈھال کر آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کے تصور کو حقیقت کے قالب میں ڈھالنے کیلئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا‘ وہیں عدلیہ کی اختیار کردہ اس فعالیت کی بنیاد پر وہ حکومتی اور قانون دانوں کے بعض حلقوں میں متنازعہ بھی ٹھہرائے گئے اور اسی تناظر میں وہ اس الزام کی زد میں بھی آئے کہ انہوں نے بعض معاملات و مقدمات میں امورِ حکومت میں مداخلت کرکے آئینی اداروں کے متعینہ فریم ورک سے تجاوز کیا ہے اور سسٹم کو چلانے کے ذمہ دار حکمران طبقات کیلئے پریشانی کا باعث بنے ہیں جبکہ دوسری جانب سسٹم کو ماضی جیسے ماورائے آئین جرنیلی اقدامات سے بچانے کا کریڈٹ بھی انہی کو جاتا ہے۔
وہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے دور کے متکبر جرنیلی آمر مشرف کے سامنے انکی باوردی ٹیم کی موجودگی میں جرأت انکار کا مظاہرہ کیا اور استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا جس پر جرنیلی آمر نے انہیں چیف جسٹس کے منصب سے معطل کرکے وزیراعظم کی سفارشات کے ساتھ ان کیخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا جبکہ عدالتی تاریخ کا یہ سنہرا کارنامہ بھی انکی ذات کے ساتھ ہی وابستہ ہے کہ وہ ایک بار معطلی اور دوسری بار معزولی کا سامنا کرنے کے باوجود دونوں بار سرخرو ہو کر دوبارہ چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوئے جبکہ 9 جولائی 2007ء کو انکی معطلی کے بعد انکی جرأت انکار کی بدولت ہی سول سوسائٹی میں عدلیہ کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی جس میں وکلاء برادری ہی نہیں‘ تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں اور سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا اور پھر اس تحریک کی بدولت ہی جرنیلی آمر کے ہاتھوں 3 نومبر 2007ء کو معزول ہونیوالی عدلیہ کی بحالی کے مراحل طے ہوئے اور اس جرنیلی آمر کی ایوان اقتدار سے رخصتی ممکن ہو پائی جسے انکے اقتداری ساتھی سیاست دان اگلی دس ٹرموں کیلئے بھی وردی سمیت منتخب کرانے کا عہد کر چکے تھے۔ اس حوالے سے جہاں ملک کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کی کئی انہونیاں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ذات کے ساتھ منسوب ہوئی ہیں‘ وہیں آزاد و خودمختار عدلیہ کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر آیا ہے۔ وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کا منصب سنبھالنے سے اپنی ریٹائرمنٹ کے دن تک مقتدر حلقوں کی آنکھوں کا کانٹا بنے رہے ہیں اور آئین کی دفعہ 184(3) کے تحت حاصل شدہ اپنے ازخود اختیارات کو عوامی بہبود اور ادارہ جاتی بے ضابطگیوں کی روک تھام کیلئے ہمہ وقت بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے جوڈیشل ایکٹوازم کو بھی ایک نئے پیرائے میں ڈھالا جس کا پہلے کوئی تصور تک موجود نہیں تھا۔ اس سے قبل آئین و قانون کی حکمرانی کے معاملہ میں عدلیہ کی فعالیت کی نیک نامی جسٹس ایم آر کیانی اور جسٹس کارنیلئس کے حصے میں آئی تھی جبکہ اس وقت عدلیہ کے پاس آئین کی دفعہ 184(3) والے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات موجود نہیں تھے۔ 1973ء کے آئین میں ہائیکورٹوں کو آئین کی دفعہ 199 اور سپریم کورٹ کو دفعہ 184(3) کے تحت مفاد عامہ کے کسی معاملہ میں ازخود کارروائی عمل میں لانے کے اختیارات تفویض ہوئے تھے جو جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں آئین کی معطلی کے ساتھ ہی غارت ہو گئے جبکہ نظریۂ ضرورت کے تحت جرنیلی آمروں کے ماورائے آئین اقدامات کو تحفظ دینے کی جو روایت جسٹس محمدمنیر نے مولوی تمیزالدین کے کیس میں قائم کی تھی‘ اسے جنرل ضیاء اور مشرف کے دور کی عدلیہ نے بھی حرزجاں بنائے رکھا اور جنرل یحییٰ کے دور میں سپریم کورٹ نے عاصمہ جیلانی کے کیس میں جنرل یحییٰ کو اس وقت غاصب قرار دیا جب وہ ایوان اقتدار سے رخصت ہو گئے تھے۔
اس تناظر میں جسٹس افتخار محمد چودھری وہ واحد چیف جسٹس ہیں‘ جنہوں نے نہ صرف متکبر جرنیلی آمر کو انکے عہد میں چیلنج کیا بلکہ عدلیہ میں موجود ’’سٹیٹس کو‘‘ توڑنے کی بھی بنیاد رکھی۔ اسی بنیاد پر انہیں قدم قدم پر نت نئے چیلنجوں اور اپنی ذات کے حوالے سے کئی الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا جس میں انکے صاحبزادے ارسلان افتخار کا معاملہ بھی شامل تھا۔ اگر وہ اس کیس میں اپنے صاحبزادے کے شفاف ٹرائل کی نوبت لے آتے تو انکی ذات کے حوالے سے آج بھی انکے اپنے بعض سابقہ ساتھیوں کی جانب سے جو انگلیاں اٹھتی نظر آتی ہیں‘ اسکی کبھی نوبت نہ آتی تاہم یہ کیس انکے بطور انسان کمزور پہلو کے اجاگر ہونے کا باعث بنا جس کے نتیجہ میں ان کیلئے بعض دیگر مقدمات میں بھی ‘جو حکومتی بے ضابطگیوں سے متعلق تھے‘ اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سے اپنا دامن بچانا مشکل ہو گیا۔
جسٹس افتخار محمد چودھری کے عہد میں این آر او کیس‘ لاپتہ افراد کے کیس‘ کراچی امن و امان سے متعلق کیس اور خفیہ اداروں کے صوابدیدی فنڈز کے استعمال سے متعلق ایئرمارشل (ر) اصغر خان کے کیس میں حکمران طبقات کیخلاف کی گئی کارروائی انکے کریڈٹ میں شامل ہے تاہم ان مقدمات میں بھی جوڈیشل ایکٹوازم کے کئی مناظر و مظاہر پیدا کرنے کے باوجود عدالتی احکام اور فیصلوں پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کرانے کے معاملہ میں عدلیہ کی فعالیت اثرپذیر نہیں ہو سکی۔ سٹیل ملز کا ایسا واحد کیس ہے جس کے فیصلے کی بنیاد پر اسکی نجکاری رک گئی جبکہ بلوچستان ریکوڈک کے کیس میں ترکی کی فرم کا کنٹریکٹ منسوخ کرنے سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلہ نے بیرونی ممالک کے ساتھ معاہدوں کے سلسلہ میں کئی قانونی پیچیدگیاں پیدا کیں‘ اسکے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے حکومتی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی روک تھام کیلئے عدالتی کارروائی اور فیصلوں کے ذریعے جو اقدامات اٹھائے گئے‘ وہ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کے معاملہ میں خود عدلیہ کیلئے مشعل راہ بنے رہیں گے۔ بالخصوص لاپتہ افراد کے کیس میں انہوں نے اپنے منصب کے آخری دن تک حکومت سے آئین و قانون کی اتھارٹی تسلیم کرانے کی کوشش کی‘ یہ الگ بات ہے کہ حکومت متعلقہ ریاستی اداروں کے ماورائے قانون اقدامات کی پکڑ کرنے کے معاملہ میں عدالتی احکام کی تعمیل کیلئے ٹس سے مس نہ ہوئی چنانچہ یہ کیس اب آئین و قانون کی حکمرانی کے حوالے سے نئے چیف جسٹس کیلئے چیلنج بنا رہے گا۔ اسی طرح اب عدلیہ کے آنیوالے دور میں جوڈیشل ایکٹوازم کے حوالے سے اختیارات کے استعمال کی حدود کا بھی تعین کرنا ہو گا تاکہ آئین کی دفعہ 184(3) والا عدالتی اختیار امور حکومت میں غیرضروری مداخلت کے پختہ ہونیوالے تاثر سے باہر نکل سکے۔ اس حوالے سے حکومت کو بھی اب خود کو اس مفروضے سے باہر نکالنا ہو گا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ کا جوڈیشل ایکٹوازم اس کیلئے نرم ہوجائیگا۔ حکومت کو آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کیلئے بہرصورت عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنا اور ان پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کرانا ہے‘ بصورت دیگر خود کو آئین و قانون سے ماورا سمجھنے والے ریاستی اداروں کو کنٹرول کرنا اور انہیں قانون کے دائرے میں رکھنا عملاً ناممکن ہو جائیگا۔ اس حوالے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے عدالتی تاریخ میں خود کو متنازعہ بنانے کے باوجود جو شاندار روایات پروان چڑھائی ہیں‘ اسکی بنیاد پر ہی انصاف کی عملداری پر کھڑے ریاستی ڈھانچے کو بچایا جا سکتا ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کا یہی فعال کردار انہیں تاریخ کے اوراق میں زندہ جاوید رکھے گا۔ خدا حافظ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری!