سی این جی بندش! پنجاب سے انتقام؟

ایڈیٹر  |  اداریہ

سوئی ناردرن کمپنی نے پنجاب بھر کے سی این جی سٹیشنوں، صنعتوں اور آئی پی پیز کو گیس کی سپلائی غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی۔ حکام نے کہا ہے کہ گھریلو صارفین کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا جس کے باعث ٹرانسمشن لائن میں پریشر برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ سردی کی شدت اور گیس کی طلب میں کمی ہوئی تو پلان پر نظرثانی کی جائیگی ورنہ فروری تک گیس کی فراہمی بند رہے گی۔گیس کی اڑھائی ماہ تک بندش سے متعلقہ شعبوں میں سے سب سے زیادہ سی این جی سیکٹر متاثر ہو گا۔ صنعتیں اور  آئی پی پیز تو فرنس آئل پر چل سکتی ہیں۔ سی این جی سیکٹر مکمل طور پر بند ہو جائیگا۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ کے بقول مسلسل بندش سے اس سیکٹر کی 450 ارب کی صنعت برباد ہو جائیگی۔ مشینری زنگ آلود اور ہزاروں ملازم بے روزگار ہو گے۔ پٹرول کے استعمال سے کرائے بڑھیں گے اور ملکی معیشت پر 2 لاکھ ٹن اضافی تیل کی درآمد سے ناقابل برداشت بوجھ بھی پڑیگا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں کبھی مسلسل ہفتوں اور مہینوں سی این جی سٹیشنوں کی گیس منقطع نہیں کی گئی۔ اگر ہفتے میں دو تین روز سے زیادہ کی بندش ہوئی تو مسلم لیگ ن کی قیادت بشمول خادم پنجاب اس کو پنجاب سے انتقامی کارروائی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک قرار دیتے تھے۔ اب پنجاب کے حقوق کا راگ الاپنے والے جو کبھی پنجاب کی پگڑی کی بات کیا کرتے تھے اس صوبے کے مکینوں سے کس بات پر انتقام لے رہے ہیں؟ گیس کے گھریلو استعمال میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ راتوں رات تین شعبوں کی گیس کی سپلائی روک لی جائے۔ گھریلو صارفین 24 گھنٹے متواتر گیس استعمال نہیں کرتے۔ جن اوقات میں گیس کی کھپت کم ہوتی ہے اس دوران پانچ چھ گھنٹے کیلئے سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی ممکن ہے۔ اگر حکمران پنجاب سے سوتیلی ماں کے سلوک کا تاثر دور کرنا چاہتے ہیں تو سی این جی سیکٹر کو مکمل بربادی سے بچانے کیلئے اس کو گیس کی فراہمی کو ممکن بنا لیں۔