ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر و فلسطین کے حل پر زور

ایڈیٹر  |  اداریہ

ایشیائی ممالک کا کشمیر اور فلسطین کے تنازعات حل کرنے پر زور۔ چیئر مین سینٹ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے بلا مقابلہ صدر منتخب۔ ایشیاء کے طول و عرض کے ممالک کی بھرپور شرکت سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان تنہائی کا شکار نہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ 22ممالک کے نمائندوں کا اظہار خیال۔
 اسلام آباد میں ہونیوالے اس اجلاس میں ایشیائی ممالک نے جس طرح باہمی تعلقات بہتر بنانے اور باہمی تنازعات کے حل پر زور دیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک کی اکثریت اب اپنے مستقبل اور حال کے بارے میں فیصلے کا اختیار اپنے پاس رکھنے میں سنجیدہ ہو رہی ہے۔ اس سے قبل ایشیائی ممالک میں فیصلے کی باگ ڈور ہمیشہ بڑی طاقتوں یا طاقتور ہمسائیہ ممالک کے ہاتھوں میں تھی مگر اب آہستہ آہستہ یہ ممالک اپنی سلامتی او رخود مختاری کے سلسلے میں آزادانہ اندرونی و بیرونی پالیسی اپنا رہے ہیں اور دوستی و تعلقات کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں اگر ایشیائی ممالک باہمی اختلافات اور تنازعات کو حل کرلیں تو متحد ہوکر اپنے وسائل اور افرادی قوت کے بل بوتے پر ایک نئی طاقت کا مرکز بن سکتے ہیں اس وقت ایشیا میں کشمیر اور فلسطین دو ایسے مسائل ہیں جو طویل عرصہ سے حل طلب ہیں اور ان کی وجہ سے ایشیا کا امن مسلسل خطرے کی زد میں رہتا ہے۔اب اگر ان دو مسائل کے حل کی طرف ایشیائی ممالک کی تنظیم نے نشاندہی بھی کردی ہے تو ان مسائل کے حل کیلئے بھی انہیں مل بیٹھ کر کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکالنی چاہیے تاکہ ایشیا سمیت تمام دنیا کا امن برقرار رہے۔