اوباما کا جھوٹ ۔ کیا واٹر گیٹ سکینڈل کی تاریخ دہرائی جائیگی

ایڈیٹر  |  اداریہ

امریکی اخبار کیمطابق صدر اوباما نے شام میں کیمیائی حملے سے متعلق جھوٹ بولا۔ اوباما انتظامیہ نے کیمیائی حملے سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹ کو دبا دیا۔ صحافی سیمول ہرش کی رپورٹ کیمطابق انٹیلی جنس نے حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپس کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اوباما اور جان کیری نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں شامی صدر کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہیں۔ اخبار کیمطابق شامی فوج کی ساربن گیس تک رسائی نہیں تھی۔
عام آدمی کے جھوٹ سے تو چند لوگ متاثر ہوتے ہیں بڑے لوگ جھوٹ بولیں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ عالمی لیڈر ایسا کریں تو اسکے برے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اسکی ایک مثال سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا وہ دعویٰ بھی تھا جس میں انہوں نے صدام حکومت کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ نیٹو نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن وہ ہتھیار نہ مل سکے جن کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔ بقول سیمول ہرش اوباما اور جان کیری کے جھوٹ کی بنا پر شام پر یلغار کر دی جاتی جس کی امریکہ نے پوری تیاری اور اعلان تک کر رکھا تھا تو لاکھوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے۔ روس اور چین کی مداخلت کے باعث شام مکمل تباہی سے بچ گیا ورنہ اوباما نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اوباما کے اس جھوٹ پر جس سے عالمی امن ایک بار پھر تلپٹ ہو کر رہ جاتا کیا امریکی قانون اوباما کا اسی طرح محاسبہ کریگا جیسا صدر نکسن کا واٹر گیٹ سکینڈل میں کیا گیا تھا۔