حکومت عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنے میں ناکام

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومت عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنے میں ناکام

سپریم کورٹ نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کے دوران وفاق اور صوبائی حکومتوں کو آخری مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ 17 جولائی تک ملک بھر کے غریبوں کو سستے آٹے کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کر کے عدالت کو حتمی ٹائم فریم دیا جائے جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ حکومت اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بارے سپریم کورٹ میں اکتوبر 2013ءسے کیس دائر ہے۔ عدالت کے بار بار نوٹس کے باوجود حکومت آٹے کی قیمتوں کے بارے عدالت کو آگاہ نہیں کر رہی۔ ہر تاریخ پر ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔ اب عدالت نے 17 جولائی تک حکومت کو غریب عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کا ٹائم فریم دیا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسکے باوجود عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ غریب رات کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھا سکتا جبکہ حکومت اور افسران سب اچھا ہے کی رٹ لگا رہے ہیں حکومتی معاملات میں عدالت تب ہی مداخلت کرتی ہے جب غریب مایوس ہو کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ عدالت آئین کے آرٹیکل 14، 9 اور 38 پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے 9 مہینوں سے کوششیں کر رہی ہے لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ حکومت پنجاب نے رمضان المبارک کیلئے 5 ارب کی سبسڈی کا اعلان کیا تھا لیکن سبسڈی دینا تو دور کی بات ہے حکومت اشیاءخوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر عوام نے لاہور ہائیکورٹ کے دروازے پر دستک دی ہے‘ رمضان کے مقدس مہینے میں ذخیرہ اندوزوں نے قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے ماڈل بازار اور رمضان بازاروں میں بھی اشیاءخورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں منڈیوں کے ایڈمنسٹریٹر سرکاری افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر مراعات لے رہے ہیں حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوام کو معیاری اور سستی اشیاءفراہم کرے۔