حکومتی خامیوں پر قابو پا کرہی قومی سیاسی استحکام کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومتی خامیوں پر قابو پا کرہی قومی سیاسی استحکام کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے

وزیراعظم کا ملکی استحکام کیلئے سیاسی جماعتوں سے تعاون بڑھانے کا عزم اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی تجاویز

وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت قومی معاملات پر سیاسی مشاورت کا مکمل ادراک رکھتی ہے‘ ملک کی داخلی صورتحال اور سیاسی مسائل پر توجہ ہے اور ہم ہر وہ قدم اٹھانے کو تیار ہیں‘ جس سے جمہوری و سیاسی قوتیں مزید مضبوط ہوں۔ گزشتہ روز وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماءسرانجام خان سے ملاقات کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس موقع پر جبکہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں دہشت گردوں کیخلاف کامیاب اپریشن ہو رہا ہے اور بے گھر افراد کی بحالی و آبادکاری کا اہم چیلنج درپیش ہے‘ تمام سیاسی جماعتوں میں ملکی استحکام کیلئے تعاون بڑھنا چاہیے۔ اس حوالے سے حکومت کو اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس ہے اور ہم قومی معاملات اور سیاسی مسائل کے حوالے سے سب سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ دریں اثناءوزیراعظم سے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کی ملاقات کے موقع پر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے احتجاجی پروگراموں سے سیاسی طور پر نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس سلسلہ میں وفاقی وزراءمیں مزید ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے قومی سلامتی کی داخلی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے چودھری نثارعلی خان کو تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت بھی کی اور انہیں عمران خان کے لانگ مارچ سے نمٹنے کا ٹاسک بھی دیا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے شمالی وزیرستان میں جاری افواج پاکستان کے اپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی خاطر ملک میں قومی یکجہتی اور سیاسی ہم آہنگی کی فضا کا استوار ہونا ضروری ہے تاکہ دہشت گردوں‘ انکے سرپرستوں اور حامیوں کو حکومتی صفوں میں اور سیاسی سطح پر موجود کسی انتشار یا کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں سیاسی انتشار بڑھتا نظرآرہا ہے جس سے قومی یکجہتی میں کسی کمزوری کی صورت میں دہشت گردوں کیخلاف جاری اپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے جبکہ یہ سیاسی انتشار سسٹم کو نقصان پہنچانے پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ سیاسی انتشار اور اس کا باعث بننے والے قومی اضطراب پر قابو پانے اور اپنے گوناںگوں مسائل کے حوالے سے مضطرب عوام کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری بہرصورت حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے جبکہ اس معاملہ میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے پاس فہم و بصیرت والی حکمت عملی کا فقدان نظر آتا ہے۔ پہلے تو حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کی حکمت عملی کے بارے میں ہی گومگو کا شکار رہی اور ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے امن و امان تاراج کرنیوالے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن کی بحالی کی مبہم اور بے معنی پالیسی اپنا کر نہ صرف وقت ضائع کیا گیا بلکہ شدت پسندوں کو دہشت گردی کیلئے مزید منظم ہونے کا موقع فراہم کیا گیا جس کا نتیجہ دہشت گردوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں پر حملوں کا سلسلہ تیز کرنے اور کراچی اور پشاور ایئرپورٹ پر حملوں کی صورت میں سامنے آیا۔ اس صورتحال میں عسکری قیادتوں کے دباﺅ پر حکومت نے مجبوراً دہشت گردوں کیخلاف شمالی وزیرستان میں اپریشن کا فیصلہ کیا اور یہ طرفہ تماشا ہے کہ یہ فیصلہ بھی قومی سیاسی قیادتوں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر کیا گیا جس کے باعث بعض دینی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپریشن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی سامنے آیا۔ اگر حکومت شروع دن سے ہی قومی سیاسی قیادتوں کو اعتماد میں لے کر اور عسکری قیادتوں سے ہم آہنگ ہو کر اپریشن کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمہ کی پالیسی اختیار کرتی تو اب تک اسکے مطلوبہ نتائج حاصل بھی ہو چکے ہوتے اور موجودہ دور حکومت میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اب تک وطن عزیز کا جتنا جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے‘ اسکی نوبت نہ آتی۔
حکومت کی اہم قومی ایشو زپر پارلیمنٹ اور قومی سیاسی قیادتوں کو اعتماد میں نہ لینے کی روش سے ہی ملک میں سیاسی انتشار اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی ہے کیونکہ حکومت نہ تو عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کے مطابق انکے روٹی روزگار‘ غربت‘ مہنگائی کے مسائل اور بجلی‘ گیس کی لوڈشیڈنگ پر قابو پا سکی اور نہ ہی امن و امان کی بحالی کا کوئی جامع اور ٹھوس منصوبہ طے کر سکی‘ نتیجتاً عوام بھی حکومتی پالیسیوں سے مایوس ہو کر سڑکوں پر آنے لگے جبکہ آئین اور جمہوری نظام کو سبوتاژ کرکے اپنا من مانا ایجنڈا نافذ کرنے کے متمنی طالبان اور دوسرے شدت پسندوں کو بھی مزید دہشت گردی کیلئے منظم ہونے کا موقع مل گیا۔ یقیناً ان حالات سے ہی حکومت کے سیاسی مخالفین نے فائدہ اٹھایا اور آج عمران خان اپنے سونامی ایجنڈے اور طاہرالقادری اپنے ساختہ انقلاب کے ذریعے حکومت ہی نہیں‘ پورے سسٹم کی اکھاڑ پچھاڑ کیلئے متحرک نظر آتے ہیں جنہیں اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے حکومت مخالف عوامی اضطراب سے تقویت حاصل ہوئی ہے جبکہ ایک میڈیا گروپ کے ساتھ کھڑے ہو کر حکومت نے اس گروپ کی پالیسیوں کے حوالے سے عسکری قیادتوں میں بھی بدگمانیاں پیدا کیں اور اس کا فائدہ بھی حکومت مخالف عناصر نے اپنے احتجاجی پروگراموں کیلئے مقتدر حلقوں کی تائید حاصل ہونے کا تاثر دے کر اٹھایا۔
اس وقت جبکہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں اور حکومت اور عسکری قیادتوں کے ایک صفحہ پر نہ ہونے کے تاثر سے فائدہ اٹھا کر عمران خان 14اگست کے سونامی مارچ اور طاہرالقادری اپنے انقلاب کے شورشرابا کے تحت ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا قائم کرنے کی سرگرم کوششوں میں مصروف ہیں جس سے حکومت ہی نہیں‘ جمہوری نظام کو بھی خطرات لاحق نظر آرہے ہیں‘ یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ سابق حکمران پیپلزپارٹی اور دوسری جمہوریت پسند جماعتوں بشمول پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے قائدین حکومت گرانے کے نام پر سسٹم کیخلاف کسی بھی سازش میں شریک نہ ہونے اور سسٹم کی بقاءو استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں جو اپنی ہی ناقص پالیسیوں کے باعث غیرمستحکم ہونیوالی حکومت کیلئے ایک طرح کی سیاسی کمک ہے جس کے سہارے جمہوریت مخالفین کا سیاسی طور پر مقابلہ اور سامنا کیا جا سکتا ہے۔
اگر وزیراعظم نوازشریف بھی اسی حوالے سے قومی اتحاد و یکجہتی کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں اور اسکی خاطر تمام قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بات چیت پر آمادہ ہیں جس کیلئے انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کو ٹاسک بھی دیا ہے تو انہیں حکومتی سطح پر مو¿ثر پالیسیاں وضع کرکے روزمرہ کے مسائل کے حوالے سے عوامی اضطراب اور مایوسیاں بھی دور کرنا ہونگی اور عسکری قیادتوں میں شمالی وزیرستان اپریشن کے حوالے سے پیدا شدہ اس تاثر کو بھی زائل کرنا ہوگا کہ حکومت بادل نخواستہ اس اپریشن کی حمایت کررہی ہے۔ اگرچہ پیپلزپارٹی کے قائدین اور بزرگ قوم پرست لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے سسٹم کیخلاف کسی بھی سازش کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا جارہا ہے اسکے باوجود ان قائدین کے امور حکومت کے بارے میں تحفظات بھی ہیں‘ جنہیں اس مرحلہ پر دور کرنا ضروری ہے۔ بہتر ہے وزیراعظم نوازشریف قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی گزشتہ روز پیش کی گئی تجاویز پر بھی سنجیدگی سے غور کریں جن کے تحت انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو بااختیار بنانے‘ صرف جج ہی کے چیف الیکشن کمشنر بننے کی پابندی ختم کرنے اور اسمبلیوں کی میعاد کم کرکے چار سال مقرر کرنے کا تقاضا کیا ہے۔ اگر ان تجاویز کو تمام پارلیمانی پارٹیوں کی مشاورت سے عملی جامہ پہنانے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو یقیناً اس سے انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے عمران خان اور طاہرالقادری کی جانب سے پورے سسٹم پر ڈالے جانیوالے ملبہ کی اثرپذیری کم کرنے میں مدد ملے گی اور سسٹم کی اصلاح کے ذریعے اس کیخلاف جاری سازشوں کا بھی قلع قمع ہو سکے گا۔ اگر وزیراعظم خلوص دل سے قومی سیاسی قیادتوں کو ساتھ ملا کر قومی یکجہتی کی فضا استوار کرنے کے متمنی ہیں تو پھر انہیں حکومتی صفوں میں موجود خامیوں اور بے ضابطگیوں پر قابو پانے کے بھی اقدمات اٹھانا ہونگے اور اپنی پارٹی کے عہدیداروں اور وزراءکو بلیم گیم سے دور رکھنا ہوگا‘ ورنہ قول و فعل کا تضاد کبھی مثبت نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا۔