پنجاب حکومت اور زرعی ٹیکس کا ہدف

ایڈیٹر  |  اداریہ

پنجاب میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں رواں مالی سال 2013-14ءمیں جولائی دسمبر 6 ماہ کے دوران 71.94 فیصد کمی رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کیلئے ایک ارب 94 لاکھ 69 ہزار روپے زرعی ٹیکس کی وصولی کا ہدف مقرر کیا تھا۔حکومتوں کا نظام ٹیکسوں پر ہی چلایا جاتا ہے۔ حکومت ہر مالی سال میں ٹیکس وصول کرنے کا ایک ہدف مقرر کرتی ہے جسے پورا کرنا ہی نظام حکومت کی ناکامی کی ضمانت بن سکتا ہے۔پنجاب حکومت نے بھی مالی سال 2013-14ءکیلئے ایک ارب 94 لاکھ 69 روپے زرعی انکم ٹیکس مقرر کیا تھا۔ لیکن 6 مہینے گزرنے کے باوجود حکومت نے اس ٹیکس کی مد میںابھی تک صرف 28 کروڑ 32 لاکھ 96 ہزار روپے وصول کئے ہیں۔ جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں 72 کروڑ 61 لاکھ 73 ہزار روپے کم ہے۔ حکومت اگر مقررہ ہدف کو حاصل نہیں کر پائے گی۔ تو پھر صوبے کے انتظامی معاملات کیسے چلائیں جائیں گے۔ حکومت مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس سے گریز کرتی ہے۔ جس کے باعث مقررہ ہدف پورے نہیں ہو سکتے۔ جب تک حکومت امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لائے گی تب تک اہداف کو حاصل کرنا مشکل کام ہو گا۔ زرعی ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کرکے ان سے ٹیکس لیا جائے تاکہ حکومت اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے چلا سکے۔