اس فضا میں بھارت کے ساتھ دوستی کی خواہش پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ

بھارت کا کشمیر پر ثالثی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو حدود میں رہنے کا مشورہ

بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اس میں کسی ثالثی کی ضرورت نہیں، اقوام متحدہ اپنی حدود میں رہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یو این سیکرٹری جنرل بانکی مون کے نائب ترجمان فرحان حق کے بیان پر کہ پاکستان اور بھارت چاہیں تو اقوام متحدہ ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے، بھارتی حکام نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بانکی مون کئی بار اعلیٰ سطح پر تسلیم کر چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا معمولی کردار ہے جبکہ عالمی برادری بھی مسئلہ کشمیر کو انٹرنیشنلائز کرنے کی پاکستان کی کوششوں کو نظر انداز کر چکی ہے اس لئے یو این سیکرٹری جنرل کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے کردار کی پیشکش اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے منافی ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے باور کرایا کہ کوئی بھی بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کردار کی درخواست نہیں کرے گی۔
اگر بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کا کردار بھی قبول نہیں اور وہ اس عالمی ادارے کو اپنی حدود میں رہنے کا درس دے رہا ہے تو پھر بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کیسے کر سکتا ہے۔ یو این سیکرٹری جنرل کو اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دینے والے بھارتی لیڈران اور حکام کو آج سے 64 سال پہلے والا وہ منظر کیا فراموش ہو چکا ہے جب قیام پاکستان کے بعد تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق وادی¿ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق قبول کرنے کے بجائے اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کشمیر کو متنازعہ بنا کر اس کا تصفیہ کرانے خود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جا پہنچے تھے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل دونوں نے نہرو کی پیش کردہ درخواست پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو بھارت کے ازخود پیدا کردہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد قرار دیا اور بھارتی حکومت کو کشمیر میں استصواب کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی۔ اگر اس مسئلہ کے حل کیلئے اقوام متحدہ کا کردار معمولی نوعیت کا ہوتا تو جواہر لال نہرو کو یہ مسئلہ یو این جنرل اسمبلی میں لے جانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت کے حق میں فیصلہ دے دیا جاتا تو بھارت اس عالمی ادارے کے کردار کو بھی تسلیم کرتے ہوئے اس پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہا ہوتا۔
چونکہ بھارت کی نیت قیام پاکستان کے وقت سے ہی اسے اس کے مرکزی حصے کشمیر سے محروم کرنے کی تھی جس کی بنیاد پر وہ پاکستان کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی طے کر رہا تھا اس لئے اپنی اس منصوبہ بندی کے عین مطابق اس نے نہ صرف کشمیر کو متنازعہ بنایا بلکہ اپنی بھاری افواج کے ذریعے اس کے بڑے حصے پر اپنا تسلط بھی جما لیا اور پھر اس تسلط کو جائز تسلیم کرانے کیلئے بھارتی آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کو باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا گیا مگر بھارت کشمیریوں کے دل کبھی نہ جیت سکا جنہوں نے قیام پاکستان سے بھی پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں کشمیری عوام نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد کا آغاز کیا جو بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے دی جانے والی ہر قسم کی اذیتوں اور صعوبتوں کو برداشت کرتے اور لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے آج بھی جاری ہے۔ اس جدوجہد آزادی نے دنیا کی آزادی کی تحریکوں کی شاندار تاریخ مرتب کی ہے جس میں بھارتی فوجوں کے ظلم و تشدد کے ہتھکنڈے سیاہ حروف اور کشمیری عوام کی بے پایاں قربانیوں کی داستانیں سنہرے حروف میں لکھی جا چکی ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دوسری عالمی تنظیموں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی ہیومن رائٹس موومنٹ کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 64 سال سے جاری بھارتی مظالم کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیکر بھارتی نام نہاد سیکولر معاشرے کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا گیا ہے اگر بھارت ترغیب و تخّوف کا ہر حربہ اختیار کر کے بھی کشمیری عوام کو رام نہیں کر سکا اور وہ اس کی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کو نہ صرف تسلیم نہیں کر رہے بلکہ انہوں نے اس ہٹ دھرمی کی مزاحمت کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہُوا ہے تو بھارت ظلم و جبر کے زور پر کب تک ان کی آواز دبائے رکھے گا اور کب تک ان کے حقوق غصب کئے رکھے گا۔ اگر بھارت کے پیدا کردہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے ہی پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کی فضا استوار ہوئی ہے جس سے علاقائی ہی نہیں عالمی امن کو بھی خطرہ لاحق ہے تو پھر عالمی برادری اپنے آج اور مستقبل کے تحفظ کی خاطر کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی سے کیسے خود کو ہم آہنگ کر سکتی ہے۔ اس بھارتی ہٹ دھرمی نے پوری دنیا کے امن و سکون کو خطرے میں ڈالا ہُوا ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ سے بڑا معتبر ادارہ اور کونسا ہو سکتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی اس اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہی خود بھارت بھی تنازعہ کشمیر پر اپنا کیس اس ادارے میں پیش کر چکا ہے، اگر اس وقت بھارتی لیڈر شپ نے خلوص دل کے ساتھ یو این سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنا کر کشمیر میں استصواب کا اہتمام کر دیا ہوتا تو آج پاکستان اور بھارت ایک اچھے پڑوسی کی طرح پُرامن بقائے باہمی کے فلسفہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی اپنی اقتصادی ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہوتے جبکہ علاقائی اور عالمی امن کو بھی کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہوتا۔ اگر آج دنیا کو مسئلہ کشمیر کے تناظر میں کسی قسم کی دہشت گردی کا خطرہ لاحق ہے اور اس خطہ کے عوام کو امن و سکون دیکھنا نصیب نہیں ہو رہا تو یہ سب کشمیر پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے والی بھارتی قیادت کا ہی کِیا دھرا ہے۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ دنیا کو دکھانے کیلئے تو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر کشمیر سمیت ہر تنازعہ کے حل کی بات کی جاتی ہے مگر جیسے ہی پاکستان بھارت مذاکرات کے حوالے سے کشمیر کا تذکرہ ہوتا ہے تو بھارت کی ہٹ دھرمی والی رگ پھڑکنے لگتی ہے اور اسے اٹوٹ انگ کے سوا مسئلہ کشمیر پر کسی دوسرے لفظ کا استعمال سجھائی ہی نہیں دیتا۔ یہی بھارتی ہٹ دھرمی اب تک پاکستان بھارت کے تین جنگوں کی نوبت لا چکی ہے اور وہ پاکستان پر چوتھی جنگ مسلط کرنے کی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتا ہے جبکہ اپنی شروع دن کی منصوبہ بندی کے مطابق وہ پاکستان کے پانیوں پر بھی ہاتھ صاف کر رہا ہے ۔اس کے باوجود وہ پاکستان کے خلاف در اندازی کے بے سروپا الزامات میں مصروف ہے جو پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے اس کی اصل نیت کا عکاس ہے۔ کیا ایسے موذی دشمن کیلئے نیک جذبات رکھ کر اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا جا سکتا ہے جبکہ وہ تو رام رام کرتے ہوئے پاکستان کے دوستی کے جذبہ پر چُھری چلاتا ہی نظر آتا ہے پھر بھی ہمارے حکمران بھارت سے ویزہ فری تجارت کے راستے ہموار کر رہے ہیں اور ملک کے صنعتی شعبے کے تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی پھر ٹھانے بیٹھے ہیں تو ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر بھارت کو کشمیر کے حوالے سے ”اٹوٹ انگ“ کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آ رہا اور وہ اپنی اس ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کنٹرول لائن پر دیوار تعمیر کرنے کی بھی ٹھانے بیٹھا ہے جبکہ کشمیری قیادت نے اس بھارتی منصوبے کو بیک زبان مسترد کر دیا ہے تو پھر ہمارے حکمرانوں کی فہم و بصیرت کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کے درپے دشمن سے خیر خواہی کی توقع باندھے ہوئے ہیں۔ موجودہ بھارتی رویے کے بعد تو بھارت کے ساتھ دوستی، تجارت اور اسے پسندیدہ ترین قرار دینے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی۔ اگر حکمران پھر بھی بھارت کے ساتھ دوستی پر بضد ہیں تو یہ حکومتی پالیسی کشمیری عوام کی صبر آزما جدوجہد میں ان کا سارا سفر کھوٹا کرنے اور کشمیر پر اپنے دیرینہ اصولی مو¿قف کا سودا کرنے کے مترادف ہو گی۔ کیا ایسی پالیسی کشمیر اور پاکستان کے عوام کو قبول ہو سکتی ہے اس کا اندازہ حکمران مسلم لیگ کے قائدین کو بخوبی لگا لینا چاہئے۔