جوڈیشل کمیشن کی تشکیل‘ اگر دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
 جوڈیشل کمیشن کی تشکیل‘ اگر دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو؟

چیف جسٹس پاکستان ناصر الملک نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی منظوری دیدی، تین رکنی جوڈیشل کمیشن عام انتخابات میں ہونیوالی مبینہ دھاندلی بارے تحقیقات کر یگا۔ کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان ناصر الملک خود کرینگے جبکہ دیگر ممبران جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان ہیں۔ وفاقی وزارت قانون کی جانب سے چیف جسٹس کو کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی تھی، اس حوالے سے حکومت نے باقاعدہ آرڈیننس جاری کیا اور اس سلسلے میں گزشتہ روز جمعرات کوجوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں کمیشن کے قواعد و ضوابط اور دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔

تحریک انصاف کے نکتہ نظر سے جوڈیشل کمیشن کا قیام ایک بڑی کامیابی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام سے تحریک انصاف کے رہنماء اور کارکن ایک سرشاری کی سی کیفیت میں ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے رواں ماہ 3اپریل کو صدارتی آرڈی نینس جاری ہوا۔
مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مابین معاہدے کی رو سے جوڈیشل کمیشن 45 روز میں اس بات کا تعین کریگا کہ انتخابات 2013ء میں دھاندلی کی گئی یا نہیں۔ آرڈیننس 10 نکات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کمیشن 45 روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ دیگا۔ اسکی رپورٹ پبلک دستاویز ہوگی، رپورٹ پیش کرنے کے بعد کمیشن ازخود تحلیل ہوجائیگا۔ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہو گا۔ آرڈیننس کا نام جنرل الیکشن 2013ء انکوائری کمیشن آرڈیننس 2013 رکھا گیا ہے۔ کمیشن انتخابات میں منظم دھاندلی اور انتخابی عمل پر کسی کے اثرانداز ہونے کا تعین کریگا۔ کمیشن کے پاس فوجداری عدالت مجریہ 1898ء اور 1908ء کے اختیارات ہونگے اور وہ کسی بھی فرد یا اتھارٹی کو معلومات کے حصول کیلئے طلب کر سکے گا۔ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتیں کمیشن میں اپنا موقف پیش کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعاون کرنے کی پابند ہونگی جبکہ کمیشن اپنی سہولت کیلئے ایک یا ایک سے زائد خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیگا۔ کمیشن یہ بھی فیصلہ کریگا کہ آیا عام انتخابات آئین و قانون کیمطابق ہوئے ہیں یا نہیں۔ دھاندلی کرنیوالے ذمہ داروں کا تعین بھی کریگا اور اس حوالے سے کمیشن حساس اداروں کی مدد بھی حاصل کرسکے گا۔
پاکستان میں سوائے 1971ء کے‘ ہر الیکشن کی ساکھ پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ 1971ء کے انتخابات کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے۔ انکے دور میں ہونیوالے انتخابات کے نتائج کو پی این اے نے مسترد کر دیا تھا۔ 9 جماعتوں کے اتحاد نے بھٹو حکومت کیخلاف تحریک چلائی جس کے نتیجے میں مارشل لاء لگا اور ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر جانا پڑا۔ 77ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی یا حکومتی امیدواروں نے جہاں ممکن ہوا‘ نتائج تبدیل کرلئے۔ بہرحال اس دھاندلی کے باعث جہاں دھاندلی زدہ حکومت کا خاتمہ ہوا‘ وہیں ذوالفقار علی بھٹو بھی سزائے موت سے ہمکنار ہو گئے۔ 77ء کے الیکشن کو اس لئے دھاندلی زدہ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو دوبارہ الیکشن کرانے پر تیار ہو گئے تھے مگر ایک فوجی آمر نے حکومت گرانے کے طے شدہ منصوبے یا سازش پر عمل کرکے ہی دم لیا۔
2013ء کے انتخابات پر عمران خان نے تحفظات کا اظہار کیا۔ وہ چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے جسے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پذیرائی نہ بخشی۔ اسکے بعد عمران خان نے پورے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیکر وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ مطالبہ منوانے کیلئے انہوں نے اسلام آباد کی طرف سے لانگ مارچ کیا اور ’’جماں جنج نال‘‘ کے مصداق عوامی تحریک بھی انکے ہمقدم ہو گئی اور کچھ عرصہ بعد طاہرالقادری دھرنا سمیٹ کر واپس کینیڈا چلے گے جبکہ عمران خان ڈٹے رہے تاہم اپنے مطالبات میں کمی کرتے ہوئے صرف انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل تک محدود ہو گئے۔ انکے حکومت کے ساتھ مذاکرات اتار چڑھائو کا شکار رہے بالآخر حکومت اور تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق ہو گئی جس کا باقاعدہ معاہدہ ہوا جس کی رو سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا جس کی سربراہی چیف پاکستان مسٹر جسٹس ناصرالملک خود کررہے۔
کمیشن جس کو چاہے ادارے کے طور پر یا شخصی حیثیت سے طلب کر سکتا ہے۔ اگر کسی کے پاس شواہد ہوں تو کوئی بھی فرد کمیشن کے روبرو پیش ہو سکتا ہے۔ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت سمیت ہر پارٹی کے قائدین انتخابات میں دھاندلی کا تذکرہ کرتے رہے۔
وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ سندھ میں فیئر الیکشن نہیں ہوئے۔ زرداری آراوز کا الیکشن قرار دے چکے ہیں۔ اے این پی اور جے یو آئی خیبر پختونخواہ میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتی ہے۔ جوڈیشل کمیشن ان پارٹیوں کو بھی اپنے اپنے بیانات کی وضاحت کیلئے کہہ سکتا ہے۔ تاہم ان پارٹیوں نے منظم دھاندلی کا الزام نہیں لگایا جیسا تحریک انصاف لگاتی ہے۔ اصل امتحان تو تحریک انصاف کا ہے کہ وہ 2013ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کو کیسے ثابت کرتی ہے۔
سابق چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس (ر) خلیل رمدے پر عمران خان دھاندلی میں ملوث ہونے کے الزام لگاتے رہے ہیں۔ جسٹس چودھری نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن ان کو طلب نہ کرے تو بھی وہ عمران خان کے الزامات کا جواب دینے کیلئے اسکے سامنے پیش ہونگے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا جوڈیشل کمیشن پہلے کبھی نہیں بنا۔ کمیشن کے فاضل جج حضرات کے سامنے انکے سابق سینئر کولیگ پیش ہونگے تو ایک گومگو کی کیفیت ہو سکتی ہے مگر قوم کو یقین ہے کہ انصاف کے تقاضے بہرصورت پورے ہونگے۔ مسٹر جسٹس ناصرالملک نے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کا مشکل فیصلہ کیا ہے مگر جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ سفارشات یا فائنڈنگز معتبر ضرور ہونگی۔ عمران خان یقین ظاہر کررہے ہیں کہ 2015ء انتخابات کا سال ہے‘ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انکے پاس انتخابات میں دھاندلی کے مسلمہ ثبوت ہیں۔ وہ جوڈیشل کمیشن میں ثابت کردینگے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اسکے برعکس فیصلہ آیا تو وہ اسے بھی قبول کرینگے۔
جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مابین معاہدے میں طے پایا ہے کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ثابت ہو جاتی ہے تو وزیراعظم نوازشریف خود حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کرینگے اور صوبائی اسمبلیاں بھی ساتھ ہی تحلیل ہو جائینگی۔ ایسا ہوتا ہے تو یقیناً یہ تحریک انصاف کی کامیابی ہو گی اور آئندہ انتخابات میں دھاندلی کے راستے مکمل طور پر بند ہو جائینگے‘ اگر فیصلہ اسکے برعکس آتا ہے تو…!
عمران خان 2013ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کے الزامات کو لیکر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے۔ انکا یہ رویہ اکثر نہیں تو عموماً تضحیک آمیز ہوتا تھا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس رمدے پر آر اوز کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگاتے رہے۔ نگران وزیرعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی پر 35 پنکچرز کا تذکرہ یقین کے ساتھ کرتے تھے۔ پارلیمنٹ کو جعلی اور پارلیمنٹیرین کو ڈاکو چور اور لٹیرے کے خطابات سے نوازتے رہے۔ پانچ ماہ دھرنا دیا‘ اپنا وقت ضائع کیا‘ قوم کا بھی‘ دھرنے کے اردگرد کے رہائشی مسلسل عذاب میں رہے۔ چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا جو ہنوز طے نہیں پارہا۔ معیشت کو نقصان پہنچا‘ اپنے کچھ حامی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ قوم کا وقت الگ سے ضائع ہوا‘ علاقے کے مزدور پیشہ ور افراد کے گھروں میں فاقوں کی نوبت بھی آئی۔ اگر جوڈیشل کمیشن میں دھاندلی ثابت نہ ہوئی‘ کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو جائز قرار دے دیا تو پھر اس پر صرف عمران خان کی معذرت کیا کافی رہے گی؟