بجلی بچت… ناکام تجربہ پھر دہرانے کی کوشش

ایڈیٹر  |  اداریہ
بجلی بچت… ناکام تجربہ پھر دہرانے کی کوشش

وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد اور پنجاب بھر میں مارکیٹیں 8، شادی ہال 10 اور ریستوران 11 بجے رات بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے سینکڑوں میگا واٹ، بجلی کی بچت ہو گی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا خواجہ آصف، احسن اقبال، اسحاق ڈار، شاہد خاقان عباسی اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریوں نے شرکت کی، بجلی کی بچت کے حوالے سے حکومتی اقدامات خوش آئند ہیں تاہم غور طلب بات یہ ہے جون میں غروب آفتاب کا وقت ہی پونے 8 بجے ہے ایسے میں سرشام مارکیٹوں کی بندش کس حد تک ممکن ہے، یاد رہے ایسا فیصلہ گزشتہ دور حکومت میں بھی کیا گیا تھا جو ناکامی کے بعد واپس لینا پڑا۔ ریستورانوں کی رات 11 بجے بندش افراتفری کے ماحول میں جینے والی قوم پر ایک اور پابندی کے مترادف ہے۔
جہاں تک بجلی کی بچت کے اقدام کا معاملہ ہے اس کے اور بھی کئی طریقے ہیں سٹریٹ لائٹس کا بے جا اصراف بچت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کلچر تبدیل کرنے کے بجائے سوچ و بچار سے کام لیا جائے تو انرجی سیورز کے استعمال سے بھی بجلی کی بچت ہو سکتی ہے۔ ماضی میں انرجی سیور کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا تاہم ان کی تقسیم کہاں ہوئی، کس نے کی، کوئی نہیں جانتا۔ عوامی سطح پر انرجی سیورز کی فراہمی توانائی کی بچت کا محرک ہو سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے دیگر صوبے اس پابندی کی زد میں نہیں آئے ساری نوازش اسلام آباد اور پنجاب پر ہے جسے دوسرے صوبوں کیلئے مثال بنایا گیا ہے۔