انصاف کی فراہمی کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا عزم

ایڈیٹر  |  اداریہ
انصاف کی فراہمی کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا عزم

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے لاہور بار کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غلط کام کرنے والے ججوں کے خلاف ثبوت دیں، نشانِ عبرت بنا دوں گا۔ 97 فیصد وکیل اچھے ہیں صرف 3 فیصد خراب ہیں۔ عدلیہ سے مایوس سائل کہیں ناامید نہ ہو جائیں۔
گزشتہ روز لاہور بار کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے نہایت جرأت مندانہ تقریر کی اور کہا کہ مجھے اُن کرپٹ ججز کے بارے میں ثبوت دیے جائیں تاکہ ایسے ججوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔ اُن کا یہ بیان عدلیہ اور سائلینِ عدل کیلئے نہایت خوش آئند ہے۔ اُنکے ان بیانات سے عدلیہ کے نظام میں ایک مثبت تبدیلی کی ہَوا چلتی محسوس ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے ہاں لوئر کورٹس میں ایک عرصے سے اصلاحات نہیں کی گئیں اگر اصلاحات ہو جائیں تو غریب اور ستائے ہوئے عوام کو سستا انصاف ملنے لگے‘ یہ عدلیہ کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
اس وقت ہمارے ہاں سینکڑوں افراد صرف اس لئے پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہیں کہ اُنکے دادا کے وقت کا کیس ہے جو اب تک حل نہیں ہو سکا اور وہ محض عدالتی تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ نئے چیف جسٹس کے اس عزم سے عوام کو جلد اور سستا انصاف ملے گا۔