چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر تمام  سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے

 قومی اسمبلی میں جسٹس (ر) بھگوان داس کو مستقل چیف الیکشن کمشنر بنانے کیلئے بل منظور کر لیا گیا ہے۔ بل کے ذریعے صدر کو کسی بھی شخص کو ایک آئینی ادارے سے سبکدوشی کے بعد کسی بھی آئینی ادارے میں تعینات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کوبطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی کی مخالفت کر دی ہے۔
 قومی اسمبلی میں وفاقی پبلک سروس کمیشن کے 1977ء کے آرڈنینس میں ترمیم منظور کر کے سینٹ کو بھجوا دی ہے جو سینٹ کی منظوری کے بعد باقاعدہ ایک قانون کی شکل اختیار کی جائے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز جسٹس (ر) بھگوان داس کو چیف الیکشن کمیشن بنانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے چاروں ارکان سیاسی عزائم رکھتے ہیں انکی موجودگی میں بھگوان داس جیسی قابل احترام شخصیت کو بے اختیار عہدے پر مقرر کرنا ان کی ذات کی توہین ہے۔ عمران خان اور انکی جماعت اسمبلی میں اس خدشے پر بات کریں اور الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان جو سیاسی عزائم رکھتے ہیں‘ ان کی تبدیلی کیلئے بھی بات کی جا سکتی ہے۔ جسٹس (ر) بھگوان داس کی شرافت اور نیک نیتی پر اپوزیشن اور حکومت کو شک نہیں تو اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ میں موجود دیگر جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کو اعتماد میں لیں۔ تاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت الیکشن کمشنر پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ جسٹس (ر) بھگوان داس اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر الیکشن کمیشن میں بہتری لائیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت کر کے انکی رائے کی بنیاد پر ارکان کے ازسر نو تقرر کے طریقہ کار اور ان کے اختیارات بارے قوانین بھی بنائیں تاکہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے جانبدار ہونے کا تاثر ختم ہو سکے۔