فوج کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
فوج کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں

جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت 170ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوا۔اس میں ڈی جی‘ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام بھی شریک ہوئے۔ کانفرنس میں ملکی دفاعی اور امن و امان کی صورتحال‘ فوج کے دہشت گردوںکیخلاف اپریشن اور انکے ٹھکانوں پر حالیہ کارروائیوں کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق کانفرنس میں دہشت گردوں کے سکیورٹی فورسز پر تازہ ترین حملوں سے پیدا صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کور کمانڈرز نے حکومت اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بھی غور کیا اور حکومتی کمیٹی میں فوج کی نمائندگی پر بھی غور کیا گیا۔ ذمہ دار عسکری ذرائع کے مطابق کورکمانڈرز نے پاک افغان سرحدی صورتحال امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد کی صورتحال پر بھی غور کیا ۔ کور کمانڈر نے فوجی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ فوج ملک کے دفاع کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کورکمانڈرز نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے حکومتی کمیٹی میں فوج کی نمائندگی کا بھی جائزہ لیا اور اہم فیصلے کئے ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کورکمانڈرز کی آراء اور فیصلوں سے وزیراعظم کو آگاہ کرینگے۔
حالیہ دنوں طالبان اور حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی‘ جس میں طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے حکومتی کمیٹی میں مقتدر قوتوں کی شمولیت کا مطالبہ کیا جس پر وزیراعظم نے حکومتی کمیٹی تحلیل کردی‘ اب چند روز میں نئی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا جائیگا جبکہ سابق کمیٹی کے ارکان کا مشاورتی کردار موجود رہے گا۔ وزیراعظم سے مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات طالبان کمیٹی کے مطالبے پر ہو ئی۔ اس نے فوجی قیادت سے بھی ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ حکومت کی طرف سے فوج کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا تھاکہ مسائل کے حل کیلئے مذاکراتی عمل میں فوج کو شامل کرنا پڑیگا۔ اس کا جواز انہوں نے پیش کیا کہ مذاکرات کے دوران بعض ایسے امور زیر بحث آسکتے ہیں جن کے بارے میں صرف فوج ہی بہتر جانتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے مثال دی کہ طالبان کی طرف سے پھر کہا گیا ہے کہ انکے ساتھیوں کی خواتین اوربچے حکومت کی حراست میں ہیں‘ اس کا جواب تو کوئی فوجی نمائندہ ہی دے سکتا ہے۔ فوج طالبان کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے چکی ہے جس کا مقصد فوج کو بدنام کرنا ہے۔ باخبر اور مصدقہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کورکمانڈرز کانفرنس میں مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا گیا تاہم کہا گیا کہ مذاکرات کے حوالے سے اگر کسی قسم کی معلومات درکار ہوں تو فوج مکمل تعاون کیلئے تیار ہے۔ ایک سینئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج کسی مجرم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ فوج کی مذاکراتی عمل میں شمولیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ مذاکراتی ٹیم کی مدد کیلئے ساری حکومتی مشینری موجود ہو گی جس میں فوج اور انٹیلی جنس ادارے بھی شامل ہیں۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سیزفائر کی خلاف ورزی ہوتی رہی تو حکومت کے پاس اپریشن کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جائیگا۔ ایک طرف وزیر دفاع ایسا جرأت مندانہ بیان دے رہے ہیں تو دوسری جانب ایک روز پہلے کے اپنے اس بیان کی تردید کردی جس میں مارچ میں اپریشن کا کہا گیا تھا۔ سیزفائر کی خلاف ورزی کا حکمرانوں کی لغت میں نہ جانے کیا مفہوم ہے‘ 13 پولیو ورکرز کے محافظوں کو سیزفائر کے اعلان کے روز دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ 5 لیویز اہلکاروں کو سیزفائر کے اعلان کے بعد ٹارگٹ کیا گیا اور پھر 3 مارچ کو اسلام آباد کچہری میں جج‘ وکلاء اور شہریوں کو سفاکیت کا نشانہ بنا کر احرارالہند نے ذمہ داری قبول کرلی۔ وزیر دفاع کہتے ہیں کہ احرارالہند کی کڑیاں پنجابی طالبان سے ملتی ہیں۔ 5 ہزار سے زائد فوجی دہشت گردوں کی بہیمانہ کارروائیوں میں شہید ہوئے‘ کیااب اسے اسکے ہی قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانا مناسب ہے؟ فوج حکومت کے ماتحت ادارہ ہے‘ حکومت نے کہا تو فوج کو اپنا نمائندہ مذاکراتی ٹیم کا حصہ بننے کیلئے دینا پڑیگا۔
حکمران چونکہ اپنی کمین گاہوں میں محفوظ و مامون ہیں‘ شاید چالیس ہزار عام شہریوں اور پانچ ہزار سے زائد فوجیوں کے خون کا انکے دل میںایسا درد نہیں ہے جو کسی کو اس پیارے کے جسم کے ٹکڑے سمیٹتے ہوئے ہوتا ہے۔ مذاکرات کا جواز تو 23 فوجیوں کو ذبح کرکے انکے سروں کو فٹبال بنانے کے بعد ختم ہو گیا تھا‘ اسکے بعد پھر جس طرح دہشت گردی کا سلسلہ بدستور جاری ہے‘ وہ وزیراعظم میاں نوازشریف اور انکے ساتھیوں کی فلاسفی کے بھی خلاف ہے کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ دہشت گردوں کیخلاف فوج سیاسی حکمرانوں کی خواہش اور ہدایت پر عمل کر رہی ہے۔ اب جبکہ وہ دہشت گردوں‘ انکے ٹھکانوں اور اسلحہ بنانے کے کارخانوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا رہی تھی تو حکومت نے اسے کارروائیاں روکنے کا حکم دے دیا جبکہ دہشت گردی بدستور جاری ہے۔ ایسے میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے سامنے سینہ تانے اہلکار کے مورال پر کیا اثر پڑا ہوگا۔
 جب حکومت نے فوج کو دہشت گردوں کے مقابلے میں کھڑا کیا ہے تو پوری قوم اور حکومت کو اسکی پشت پر ہونا چاہیے۔ ایسا کم کم ہی نظر آتا ہے۔ وزیراعظم نے طالبان کے مطالبے پر حکومتی کمیٹی تحلیل کردی۔ وفاقی وزراء طالبان کی طرف سے بچوں اور خواتین کی رہائی کے سوال پر اشارہ فوج کی طرف کر دیتے ہیں۔ وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ تمام طالبان پاکستان کے مخالف نہیں۔ جہاں تو طالبان کے حامی بھی فوج کی قربانیوں کی توہین کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ کو پاکستان کے حامی طالبان کہاں سے مل گئے؟ پاکستان کے آئین کو سرے سے تسلیم کرنے سے انکار سے کون واقف نہیں۔
دہشت گردوں کے ساتھ کم از کم آٹھ مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے ہوئے جو انکی طرف سے توڑے گئے۔ مذاکرات کی بساط بھی انہوں نے دہشت گردی کی اندوہناک کارروائیاں کرکے الٹنے کی کوشش کی مگر حکمران انکے ساتھ مذاکرات کیلئے پرعزم ہیں۔ حکمران جن مذاکرات کیلئے مصر ہیں‘اس سے خیر کی توقع نہیں ہے۔ اگر حکمران ہر صورت مذاکرات کرنے پر بضد ہیں تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں۔ اپوزیشن کے خدشات دور کریں اور نئی مذاکراتی ٹیم میں سے فوج کو الگ رکھیں البتہ جہاں جہاں ضرورت پڑے‘ اسکی مشاورت لی جائے جس پر فوج بھی تیار ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ فوج حکومت کے ماتحت ہے‘ الگ سیاسی پارٹی نہیں۔