خواتین پر تشدد کیخلاف قانون سازی کی جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
 خواتین پر تشدد کیخلاف  قانون سازی کی جائے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا گیا صدر اور وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں عورتوں کے مسائل حل کرنے اور حقوق کے تحفظ کیلئے موثر قانون سازی کی گئی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں کورم کی نشاندہی پر خواتین کے حقوق سے متعلق بل پیش نہ ہو سکا۔
اسلام نے عورت کو اس قدر اعلی مقام عطا کیا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت کو قرار دیا لیکن اس فضیلت کے باوجود ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے‘ اسکے ساتھ زمانہ جاہلیت والا سلوک کیا جاتا ہے حالانکہ عورت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر روپ میں معاشرے میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے لیکن معاشرے میں کاروکاری، جہیز کے مسائل، قرآن سے شادی کر کے جائیدار ہڑپ کرنا، شوہروں کے مظالم، تیزاب سے چہروں کو مسخ کرنا، ہر وہ ظلم جس کا تصور پایا جاتا ہے۔ وہ عورت کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں خواتین پر گھریلو تشدد، ذہنی و جسمانی تشدد، زیادتی، اغوا جیسے بے شمار ایسے مظالم ہیں‘ جو خواتین پر ڈھائے جاتے ہیں۔ حالانکہ عورت کے بغیر تو ہمارا معاشرہ ہی نامکمل ہے خواتین پر ظلم و ستم صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے مہذب ممالک میں بھی ہوتا ہے۔ پورپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے ایک جائزے کے نتائج کے مطابق یورپی یونین میں شامل ممالک میں ایک تہائی خواتین 15برس کی عمر سے جسمانی اور ذہنی دبائو کا شکار ہوتی ہیں۔ جن کی تعداد 6 کروڑ 20لاکھ کے لگ بھگ بتائی گئی ہے حکومت پاکستان کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ قرادر دادیں پاس کرنا یا صرف خواتین کے دن کی مناسبت سے بیان جاری کر دینا کافی نہیں ہے خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی جائے۔ ممبران اسمبلی کو جس شوق سے اسمبلی اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اس کا تو گزشتہ روز کورم دیکھ کر ہی پتہ چل گیا ہے صدر، وزیر اعظم، اور وزیر اعلیٰ کوخواتین حقوق کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرنے کیلئے آگے بڑھنا چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو تحفظ مل سکے۔