بھارت کی بجائے چینی کمپنیوں کی مدد سے بجلی پیدا کی جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
بھارت کی بجائے چینی کمپنیوں  کی مدد سے بجلی پیدا کی جائے

بھارت سے بجلی درآمد کے معاملے پر پاکستان ، بھارت نمائندوں پر مشتمل 4مختلف کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری پانی و بجلی زرغام اسحاق کے مطابق کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ دلی میں پاک بھارت حکام کی ملاقات کے دوران ہوا ہے دوسری طرف مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے واضح کہا ہے کہ کشمیر سرکریک سیاچن کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ صرف تجارت پر بات چیت کا تاثر غلط ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان اس وقت توانائی کے بحران سے دو چار ہے اور بجلی کی اشد ضرورت ہے لیکن کوئی بھی پاکستانی بھارت سے بجلی لینے کے حق میں نہیں ہے۔ اس وقت حکومت چین کی مدد سے22ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے جبکہ ہماری ملکی ضرورت 18 سے 20ہزار میگاواٹ ہے۔ بجلی لینے کیلئے ٹیکنیکل ، کمرشل ریگولیٹری اور کنسٹرکشن کے معاملات پر کمیٹیاں بنانے کا کیا جواز ہے۔ حکومت چین اور ترک کمپنیوں کی مدد سے بجلی کے منصوبے جلد شروع کرے اور بھارت سے 500 میگاواٹ بجلی لینے بھارت سے کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ بھارت ہمارا ہی پانی بند کر کے ہمیں ہی بجلی بیچے گا۔ یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے ٹھیک کہا ہے کہ کشمیر سرکریک، سیاچن کو پس پشت ڈال کر بھارت سے دیگر معاملات پر بات کرنے کا تاثر غلط ہے  500 میگا واٹ بھارتی بجلی کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت بھارت سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے‘ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے تو باقی مسائل تو اس کے ضمن میں ہی حل ہو جائینگے بھارت تجارت کرنے کیلئے تو بڑا بیتاب ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کیمطابق حل کرنے کی جانب نہیں بڑھتا سرتاج عزیز کی بات درست ہے کہ اتنے مسائل کے ہوتے ہوئے بھارت سے تجارت پربات نہیں کی جا سکتی۔