میرٹ کیخلاف تقرریوں پر عدالت عظمیٰ کی بجا تشویش

ایڈیٹر  |  اداریہ
میرٹ کیخلاف تقرریوں پر  عدالت عظمیٰ کی بجا تشویش

 ملک میں کوئی قانون نہیں مانتا۔ میرٹ سے ہٹ کر تقرریاں ہوئیں تو عام لوگ کہاں جائینگے۔ سپریم کورٹ۔ سابق وزیر نے اپنے بھائی کو چیئرمین ای او بی آئی لگوایا ۔قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ ای او بی آئی میں تقرریاں کالعدم قرار دیئے جانے کے فیصلے کیخلاف راجہ پرویز اشرف کے داماد کی نظرثانی کی درخواستیں مسترد۔
عدالت عظمیٰ کی طرف سے ملک میں میرٹ اور قانون سے ہٹ کر سیاسی و ذاتی اقرباپروری کی بنیاد پر کی جانیوالی اہم سرکاری عہدوں پر تقرریوں کیخلاف اس فیصلے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ناانصافی کس قدر عام ہے اور حکمران طبقہ تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر کس طرح من پسند افراد اور اپنے خاندان والوں کو نواز رہا ہے۔ حکمران جو آئین کی پاسداری حلف اٹھاتے ہیں، عوام کی ملک کی خدمت کے دعوے کرکے اقتدار میں آتے ہیں وہی سب سے بڑے لٹیرے بن جاتے ہیں اور آئین و قانون کو موم کی ناک بنا دیتے ہیں اگر عدلیہ اسی طرح دیگرسرکاری محکموں تقرریوں کا بھی جائزہ لے اور ان میں خلاف میرٹ ہونیوالی تقرریاں بھی کالعدم قرار دے تو عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھے گا اور ان پوسٹوں پر میرٹ کیمطابق قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اہل افراد کی تعیناتی کی جائے تو ملک کے بہت سے مسائل حل ہونگے اور عوام بھی مطمئن ہونگے۔