جمہوریت کی درگت بنانے کا حکمران خود ہی تو موقع نہیں فراہم کر رہے؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
جمہوریت کی درگت بنانے کا حکمران خود ہی تو موقع نہیں فراہم کر رہے؟

حکومت کی آئی ایم ایف کو بجلی‘ گیس کے نرخ مزید بڑھانے اور دسمبر تک پی آئی اے کی نجکاری کرنے کی یقین دہانی

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی صارفین پر ایک اور سرچارج عائد کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی صارفین پر 240 ارب روپے کا سنڈیکیٹڈ ٹرم کریڈٹ فنانس سرچارج عائد کیا جا رہا ہے اور نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں اضافے کو بلوں کا حصہ بنانے کی صورت میں حکومت آئی ایم ایف کو کرائی گئی تحریری یقین دہانی کے تحت سرچارج ایس ٹی سی ایف کے نام سے بلوں میں شامل کریگی جس سے حکومت کو 240 ارب روپے کی ریکوری ہو گی۔ ایک خبررساں ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے بجلی میں مزید 150 ارب روپے کی سبسڈی ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے جبکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل بھی 31 دسمبر 2014ء تک مکمل کرلیا جائیگا۔ اسی طرح گیس پر لیوی عائد کرکے محصولات حاصل کئے جائینگے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو کرائی گئی یقین دہانی کی بنیاد پر گھریلو‘ صنعتی اور کمرشل بجلی کے نرخ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے چنانچہ دو سو یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنیوالے تمام صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
سابق حکمرانوں کے پیدا کردہ روٹی روزگار‘ غربت‘ مہنگائی اور بجلی‘ گیس کی لوڈشیڈنگ کے گھمبیر مسائل سے عاجز آکر ہی عوام نے گزشتہ سال 11؍ مئی کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے دعوئوں اور وعدوں کی بنیاد پر اس پارٹی کو اقتدار کیلئے بھاری مینڈیٹ دیا تو انہیں نئے حکمرانوں سے یہ توقعات بھی وابستہ ہو گئی تھیں کہ وہ سابق حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کرکے جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچانے کی پالیسی اختیار کرینگے اور انہیں غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور بدامنی کے ہاتھوں راندۂ درگاہ نہیں ہونے دینگے۔ انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے عوامی مسائل حل کرنے کے بلند بانگ دعوے بھی کئے مگر 11؍مئی کے انتخابات میں عوام سے حکمرانی کا مینڈیٹ حاصل ہوتے ہی اس پارٹی کی قیادت نے عوام سے آنکھیں پھیرلیں۔ میاں نوازشریف نے وزارت عظمیٰ کے منصب پر نامزد ہونے کے بعد ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں منعقد کی گئی یوم تکبیر کی تقریب میں اپنی پہلی ہی تقریر میں عوام کے ذہنوں پر یہ کہہ کر ہتھوڑے برسا دیئے کہ وہ ان سے دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کی ہرگز توقع نہ رکھیں۔ انہوں نے یہ فقرہ محض محاورۃً ادا نہیں کیا بلکہ اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کے ساتھ قرضوں کے حصول کے نئے معاہدے کرکے اور اس میں آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کی گئی شرائط کے عین مطابق بجلی گیس کے نرخوں میں ہر دو ہفتے بعد اضافہ کرکے‘ بجلی پر صارفین کو دی گئی سبسڈی ختم کرکے اور نئے ٹیکس لگا کر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عملاً یہ ثابت کرنا شروع کر دیا کہ وہ عوام کیلئے فی الواقع دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائے گی البتہ انہیں زندہ درگور کرنے کے عملی اقدامات ضرور اٹھائے جائینگے۔ اس بنیاد پر ہی وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عوام پر نئے ٹیکسوں اور بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہر پندرہ روز کے اضافے کے جواز میں یہ منطق ڈھونڈ نکالی کہ وسیع تر قومی مفاد میں عوام کو کڑوی گولی نگلنا ہوگی۔ زندہ درگور کئے گئے عوام کو کڑوی گولی کھانے کا مشورہ ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مترادف تھا جس کے ردعمل میں عوام کے ذہنوں میں ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کی سوچ بھی پیدا ہو سکتی تھی اسکے باوجود حکمرانوں نے نتائج کی پرواہ کئے بغیر آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ چنانچہ عوام کو بجلی‘ گیس کی لوڈشیڈنگ‘ بے روزگاری اور روز افزوں مہنگائی سے تو کیا نجات ملتی‘ انہیں آئے روز پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں اور یوٹیلٹی بلوں میں بتدریج اضافہ کے ’’تحفے‘‘ ضرور ملنا شروع ہو گئے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ طے کئے گئے معاہدے کی بنیاد پر حکومت اس سے اب تک قرضے کی تیسری قسط وصول کر چکی ہے جس سے عوام کو ریلیف تو عشرعشیر کے برابر بھی نہیں ملا اور موجودہ حکومت کے پیش کئے گئے دوسرے بجٹ میں بھی آئی ایم ایف کی قسطیں خسارے کا بوجھ کم کرنے کی گنجائش نہیں نکال سکیں مگر آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط پر من و عن عمل کرتے ہوئے حکومت نے نیم مردہ عوام کے سوکھے جسموں پر مہنگائی کے کوڑے برسانے میں بہت سرعت کا مظاہرہ کیا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ناجائز منافع خوروں کی مسلط کی گئی خود ساختہ مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی عوام کی چیخیں نکل رہی تھیں جبکہ وفاقی اور صوبائی میزانیوں میںبھی عوام کے ریلیف کی کوئی گنجائش نہیں نکالی گئی تھی۔ اب آئی ایم ایف کی شرائط کی روشنی میں گھریلو‘ صنعتی اور کمرشل بجلی کے نرخ بڑھیں گے اور گیس پر عائد کی جانیوالی لیوی سے گیس کے بل بھی دو اڑھائی گنا بڑھ جائینگے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہنگائی کے مارے عوام کو زندہ رہنے کی خاطر سانس لینا بھی کتنا دشوار ہو جائیگا۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہی اوگرا نے سی این جی اور پھر گھریلو صارفین کیلئے گیس مہنگی کی جبکہ اس سے قبل نیپرا کی جانب سے عوام کو ماہ رمضان المبارک کے آغاز ہی میں 2 سے 5 روپے فی یونٹ تک بجلی مہنگی کرنے کا تحفہ بھی دیا گیا۔ اب آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے حکومت 240 ارب روپے کی وصولی کی خاطر ایک اور سرچارج عائد کرکے بجلی کے بلوں کے ذریعہ عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالے گی تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس لادے جانیوالے بوجھ سے عوام کی کیا حالت ہو گی۔
عوام کو درس تو یہی دیا جاتا ہے کہ اچھی سے اچھی آمریت سے بھی بری سے بری جمہوریت بہتر ہے مگر جمہوریت کے ثمرات کی آج تک عوام کو بھنک تک نہیں پڑنے دی گئی۔ اس صورتحال میں اگر وزیراعظم نوازشریف جمہوریت کا پرچم بلند کرتے ہوئے حکومت مخالف عناصر کو یہ مشورہ دیں کہ عوامی مینڈیٹ پر نقب ملکی مفاد میں نہیں ہے‘ ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کرکے اپنی باری کیلئے چار سال کا انتظار کرلیا جائے تو کیا انہیں یہ مینڈیٹ دینے والے عوام بھی آج انکے اس مؤقف کی تائید کی پوزیشن میں ہیں؟ جبکہ وہ تو غربت‘ مہنگائی اور روٹی روزگار کے مسائل سے عاجز آکر اب تہیۂ طوفان کئے بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر جمہوریت دشمن عناصر کو حکومتی پالیسیوں سے مایوس اور مضطرب عوام کے بپھرے جذبات اپنے جمہوریت مخالف ایجنڈے کی تکمیل کیلئے استعمال کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کیا حکمران اپنی عوام دشمن پالیسیوں سے خود ہی ایسے مواقع پیدا نہیں کر رہے اور اگر یہ صورتحال جمہوریت کے ماضی جیسے کسی نقصان پر منتج ہوتی ہے تو کیا حکمران خود ہی اسکے ذمہ دار نہیں ہونگے۔
اگر حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں بھی ناکام ہے اور گیس‘ کھاد اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کے بعد اب آئی ایم ایف کی شرائط کی روشنی میں عوام پر یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ کی صورت میں مزید مہنگائی مسلط کرکے مہنگائی کے سونامی کو دعوت دے رہی ہے تو ان حکومتی اقدامات کا ردعمل جمہوریت مخالف سوچ کو تقویت پہنچانے کا ہی موجب بنے گا۔ بجلی‘ گیس کے نرخ بڑھنے سے اب لامحالہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو گا اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء کے نرخ بھی جستیں بھرتے آسمان تک جا پہنچیں گے تو عوام کے پاس سکون سے زندگی بسر کرنے کا کون سا راستہ رہ جائیگا۔ عمران خان اور طاہرالقادری پہلے ہی اپنے اپنے مخصوص ایجنڈا کے تحت حکومت مخالف تحریک چلانے کے پروگراموں کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ مہنگائی کے عفریت بڑھا کر حکومت خود بھی اپنے خلاف ممکنہ عوامی تحریک کو کمک فراہم کرتی نظر آرہی ہے۔
آئی ایم ایف کو تو یقیناً اپنے قرضے کی مقررہ مدت کے دوران بمعہ سود وصولی سے ہی سروکار ہے جس کی خاطر وہ حکمرانوں کو ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکسوں کی وصولی کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بجلی گیس کے نرخ بڑھانے کا بھی مشورہ دیگا اور ان مشوروں کو عملی جامہ پہنانے کا بھی متقاضی رہے گا جبکہ حکومتی جبری اقدامات سے ان مشوروں کو عملی جامہ پہنائے جانے سے عوام کی جو درگت بنے گی وہ ہمارے معاشرے کی کوئی اچھی تصویر سامنے نہیں لائے گی کیونکہ اس کربناک فضا میں جمہوریت کی بھی درگت بن سکتی ہے۔ حکمرانوں کو ابھی سے سوچ رکھنا چاہیے کہ انکے اقتدار کی یہ ٹرم بھی پوری نہ ہو پائی تو ماورائے آئین اقدام کے حامی جمہوریت دشمنوں کے علاوہ وہ خود اسکے کتنے ذمہ دار ہونگے۔