افغانستان صدارتی الیکشن میں اشرف غنی کی کامیابی

ایڈیٹر  |  اداریہ
افغانستان صدارتی الیکشن  میں اشرف غنی کی کامیابی

 ورلڈ بنک کے سابق اکانومسٹ اشرف غنی احمد زئی افغانستان کے نئے صدر منتخب ہو گئے ۔افغانستان میں صدارتی انتخابات میں 8 امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ سب سے زیادہ ووٹ عبداللہ عبداللہ نے حاصل کئے دوسرے نمبر پر اشرف غنی رہے تھے تاہم واضح برتری نہ ہونے پر رن آف الیکشن ہوئے جس میں الیکشن کمیشن کی طرف سے غیر حتمی نتائج کیمطابق اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے نتائج یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا کہ حامد کرزئی نے اشرف غنی کو جتوانے میں جعلسازی کی۔ اس شور شرابے کے باوجود اشرف غنی کے صدارت سنبھالنے کے واضح امکانات ہیں۔ اشرف غنی احمد زئی 2002ء سے 2004ء تک وزیر خزانہ رہے۔ وہ کابل یونیورسٹی کے چانسلر رہ چکے ہیں۔ فارن پالیسی میگزین نے 2009ء میں اس دنیا کے 100 ٹاپ دانشوروں کی رینکنگ میںانہیں دوسرے نمبر پر قرار دیا۔ وہ پشتون قبیلہ احمد زئی سے تعلق رکھتے ہیں۔ افغانستان میں جو بھی حکمران ہو اس کی پالیسیوں کے اثرات پڑوسی ملک پاکستان پر ضرور نمایاں ہوتے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ پروانڈیا ہیں۔ ان کا تو دوسرا گھر بھارت ہے دہلی میں انکی فیملی مقیم ہے۔ انکی کامیابی سے بھارت کی پاکستان میں مزید مداخلت کے خدشات تھے۔ اشرف غنی پاکستان کے حوالے سے بہتر انتخاب ہے۔ ایسے مرحلے پر جب امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے اور پاک فوج دہشت گردی کیخلاف آپریشن میں مصروف ہے افغانستان میں پروپاکستان حکومت ہونی چاہئے۔ اشرف غنی ایک پڑھے لکھے سیاست دان ہیں۔ وہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرینگے۔ اس حوالے سے پاکستان کی طرف فعال سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کے اختلافات اور تلخ تجربات کا اعادہ نہ ہو۔