مہاراشٹر میں مسلمانوں کے جان و مال کا ضیاع

 مہاراشٹر میں مسلمانوں کے جان و مال کا ضیاع


 مہاراشٹر پولیس کی فائرنگ سے 6مسلمان شہید 200 زخمی ہندو فسادیوں نے بستی جلا دی کرفیو نافذ کردیا گیا۔بھارت میں آباد مسلمان وہاں کے شہری ہیں اور انہیں وہاں ایک شہری ہونے کے ناطے اتنا ہی تحفظ ملناچاہئے جتنا کسی ہندو کو ہے مگر بھارت میں موجود اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیتی ہیں جو بھارت کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ ہے۔مہاراشٹر کے ضلع دھولیہ میں معمولی سی بات پر مسلمان رکشہ ڈرائیور کو ہجوم نے پیٹ ڈالا جس کے بعد فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے جس میں 6مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 200 زخمی ہوگئے ۔ان میں 50پولیس والے بھی شامل ہیں۔ دھولیہ ایک صنعتی شہر ہے اور یہاں پر مسلمان بھی مالی لحاظ سے مستحکم ہورہے تھے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندو انتہا پسندوں نے احمد آباد،آلہ آباد،حیدرآباد دکن، بھوپال اور سورت جیسے شہروںکی طرح اس صنعتی شہر میں بھی مسلم کش فسادات برپا کرکے مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔حسب روایت بھارتی پولیس اور کرفیو کے بعد پیرا ملٹری فورسز بھی اپنا سارا غصہ غریب مسلمانوں پر ہی نکالتی رہی۔گھروں کے دروازے توڑ کر مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ شرپسندوں نے ان کی املاک کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کردیا۔پاکستان میں اگر کسی ہندو عورت کا اغوا ہو یا جبری طورپرمسلما ن ہوکر شادی کرنے پر مجبور کیاجائے تو پاکستان میں خود سول سوسائٹی اورانسانی حقوق کے ادارے فوراً بیدار ہوکر احتجاج کرتے ہیں جو کہ ایک مثبت روایت ہے مگر بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر عالمی ادارے اور رائے عامہ خاموش ہے۔انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اس سانحے پر غور کرناچاہئے اور بھارت میں آباد سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے جان و مال کے نقصان پر آواز بلند کرنی چاہئے ۔سیکولر بھارت مسلم اقلیت کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری قبول کرے۔