سینٹ کمیٹی میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی متفقہ منظوری اور اس پر عملدرآمد کے تقاضے....اب انتخابی اصلاحات کیلئے لانگ مارچ اور دھرنوں کا جواز رہا ہے؟

سینٹ کمیٹی میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی متفقہ منظوری اور اس پر عملدرآمد کے تقاضے....اب انتخابی اصلاحات کیلئے لانگ مارچ اور دھرنوں کا جواز رہا ہے؟


سینٹ کی انتخابی اصلاحات بارے خصوصی کمیٹی نے آئندہ عام انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق کی بعض ترامیم کے ساتھ منظوری دیدی ہے جس کا حتمی اعلان پاکستان الیکشن کمیشن کریگا اور ضابطہ اخلاق کی جن شقوں کو قانونی تحفظ کی ضرورت ہوگی، ان پر پارلیمنٹ عام انتخابات سے پہلے قانون سازی کریگی جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں سیاسی جماعت کے بجائے متعلقہ امیدوار کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔ ضابطہ اخلاق میں واضح کیا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کوئی بھی امیدوار سرکاری عمارات، تنصیبات یا کھمبوں پر پارٹی پرچم آویزاں نہیں کرسکے گا۔ ہر قسم کے ہورڈنگز اور بینر آویزاں کرنے پر پابندی ہوگی۔ صرف مقررہ سائز کے پمفلٹ اور پوسٹرز کی اجازت ہوگی۔ صدر، وزیراعظم، چیئرمین سینٹ، سپیکرز قومی و صوبائی اسمبلی، گورنرز، وزراءاعلیٰ اور انکے مشیر انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور اس پابندی کا اطلاق نگران سیٹ اپ پر بھی ہوگا۔ سینٹ کمیٹی کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور کی تشہیر کیلئے پی ٹی وی پر وقت دیا جائے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے پریس بریفنگ میں بتایا کہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو نظریہ پاکستان، ملکی خودمختاری، سلامتی، عدلیہ کے وقار اور افواج پاکستان کا تمسخر اڑانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انتخابی مہم میں ہر قسم کی وال چاکنگ پر پابندی ہوگی۔ جلسہ جلوس اور رائے شماری کے دوران سیاسی جماعتیں اور امیدوار کسی قسم کی اشتعال انگیزی یا بدامنی پھیلانے سے اجتناب کریں گے۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں سرکاری خزانے سے اشتہارات جاری کرنے کی مجاز نہیں ہوں گی۔ سینٹ کمیٹی نے قرار دیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی انتخابی اصلاحات کیلئے اپنی تحریری سفارشات پیش کرسکتے ہیں۔ یہ ضابطہ اخلاق مسلم لیگ (ن) سمیت سینٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ہے۔
اس ضابطہ اخلاق میں جو بنیادی طور پر پاکستان الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی سربراہی میں مرتب کرکے پارلیمنٹ کو بھجوایا تھا، انتخابی سرگرمیوں سے متعلق جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور قواعد و ضوابط وضع کئے گئے ہیں اگر ان پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کرلیا جائے تو چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے قوم کے ساتھ کئے گئے وعدے کے مطابق آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پرامن انتخابات کا انعقاد ممکن ہوجائیگا جبکہ اس ضابطہ اخلاق کی صورت میں کی جانیوالی انتخابی اصلاحات کے پارلیمانی جمہوری نظام پر بھی دوررس اثرات مرتب ہوں گے اور پارلیمنٹ سے باہر جو عناصر انتخابی اصلاحات کے نام پر شورشرابا کرکے آئندہ عام انتخابات کو ملتوی یا موخر کرانے کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، انکے پاس بھی انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات کے پروپیگنڈے کا قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہے گا۔ سینٹ کمیٹی نے خود بھی ڈاکٹر طاہر القادری اور انتخابی اصلاحات کے نعرے لگانے والے دیگر عناصر کو دعوت دی ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات سے متعلق اپنی سفارشات تحریری طور پر سینٹ کمیٹی کو بھجوا سکتے ہیں۔ یقیناً اسکے بعد انتخابی اصلاحات کیلئے کسی لانگ مارچ یا دھرنے کا جواز نہیں رہتا۔ اگر پھر بھی لانگ مارچ اور دھرنے پر اصرار کیا جائیگا تو اسکا مقصد انتخابی اصلاحات کے بجائے انتخابات کا التواءبذریعہ فساد ہوگا جو جمہوری نظام کو سبوتاژ کرنے کا ایجنڈہ رکھنے والوں کی سوچ ہی ہوسکتی ہے۔
یقینا ہمارے مروجہ انتخابی اور جمہوری نظام میں بے شمار قباحتیں موجود ہیں جن کے باعث منتخب ایوانوں میں عام آدمی کی حقیقی نمائندگی بھی نہیں ہوپاتی اور سلطانی¿ جمہور کے ثمرات بھی جمہور تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہ قباحتیں سلطانی¿ جمہور کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنیوالوں کی اپنی پیدا کردہ ہیں جن کا کسی ضابطے اور قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ ماضی میں دھن، دھونس، دھاندلی کی بنیاد پر انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کئے جاتے رہے ہیں جس میں جعلی ووٹرز لسٹوں کا زیادہ عمل دخل رہا ہے جبکہ وڈیرہ شاہی، جاگیردارانہ ذہنیت، ذات برادری کے غلبہ اور کرپشن کلچر کی صورت میں موجود سسٹم کی قباحتوں کے نتیجہ میں عام آدمی کو اپنے حقیقی نمائندے منتخب کراکے پارلیمنٹ، اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کا موقع ہی نہیں مل پاتا تھا۔ جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم نے چیف الیکشن کمشنر کے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا کام سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں انتخابی فہرستوں کو شفاف بنانے کا کیا جن میں سے ساڑھے تین کروڑ کے لگ بھگ جعلی ووٹرز کو نکال کر نادرا کے پاس موجود ریکارڈ کی بنیاد پر انتخابی فہرستیں ازسرنو مرتب کی گئیں چنانچہ موجودہ انتخابی فہرستیں کافی حد تک جعلی ووٹوں اور دیگر غلطیوں سے پاک ہوچکی ہیں۔ ان فہرستوں کے باعث انتخابی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرتے ہوئے انتخابات کرائے جائیں گے تو امیدواروں کی جانب سے دھن اور دھونس کی بنیاد پر دھاندلیوں کی گنجائش ختم ہوجائیگی جبکہ ووٹروں کو بھی اپنے ضمیر اور آزاد مرضی کے مطابق حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملے گا تو انکے حقیقی نمائندوں کے منتخب ہو کر منتخب ایوانوں میں پہنچنے کی راہ بھی ہموار ہوجائیگی۔
اس وقت بنیادی تقاضہ انتخابی ضابطہ اخلاق اور متعلقہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا ہے، چونکہ گزشتہ ماہ کے ضمنی انتخابات کے مراحل میں الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق اور انتخابی قواعد و ضوابط پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کرانے کیلئے زیادہ موثر ثابت نہیں ہوسکا تھا اور انتخابی مہم کے دوران اسلحہ کی سرعام نمائش اور استعمال اور انتخابی اخراجات کی مقررہ حد سے حد درجہ تجاوز کے باعث عام انتخابات کے معاملہ میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں اسلئے اب ضروری ہے کہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کیلئے الیکشن کمیشن جس قانون سازی کا تقاضہ کررہا ہے وہ موجودہ پارلیمنٹ سے کرالی جائے کہ انتخابات کے موقع پر کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔ اگر آنیوالے انتخابات انتخابی ضابطہ اخلاق کی روح کے مطابق منعقد ہوں گے اور سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو اشتہاری مہم کیلئے سرکاری فنڈز سے رقوم جاری کرنے، اسلحہ کی نمائش کرنے،پولنگ کے دوران امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور نظریہ پاکستان، ملکی سلامتی، عدلیہ اور افواج پاکستان کے بارے میں کسی قسم کے منفی ریمارکس دینے یا مخالفانہ پراپیگنڈہ کرنے پر نااہلیت کا خطرہ ہوگا تو یقیناً سیاسی جماعتیں اور انکے امیدوار ضابطہ اخلاق کے ان قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے سے گریز کریں گے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں سرکاری اشتہاروں پر پارٹی قائدین کی تصاویر لگوانے اور سرکاری فنڈز کو انتخابی مہم کیلئے استعمال کرنے پر پابندی عائد کی جاچکی ہے اسلئے اب سپریم کورٹ کی ہدایات اور سینٹ کمیٹی کے منظور کردہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر فی الفور عملدرآمد شروع کردیا جانا چاہئے۔ اگر انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنالیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پرامن فضا میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات منعقد نہ ہوسکیں۔ اس صورت میں امن و امان کنٹرول کرنے کیلئے فوج کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑیگی اور امیدواروں کو نااہلیت کا خطرہ ہی انکی جانب سے پولنگ کے دوران امن و امان قابو میں رکھنے کی ضمانت بن جائیگا۔ اسکے باوجود الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے افواج پاکستان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس کیلئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چیف الیکشن کمشنر کو مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا ہے تو اس فضا میں امن و امان کے کسی خدشے کی بنیاد پر انتخابات کے التواءکا کوئی جواز نہیں نکل پائیگا اور مقررہ آئینی کے معیاد انتخابات کے انعقاد کے بعد پرامن انتقال اقتدار کا مرحلہ بھی طے ہوجائیگا چنانچہ سسٹم کی بقاءو استحکام کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے اپنے اپنے کردار کی ادائیگی کا یہی وقت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ سینٹ کمیٹی کے منظور کردہ انتخابی ضابطہ اخلاق سے مروجہ انتخابی نظام کی اصلاح کی راہ بھی ہموار ہوگی بشرطیکہ اس ضابطہ اخلاق کو آئین و قانون کے ساتھ کھیلنے کی روش کی طرح ہوا میں نہ اڑا دیا جائے۔