سرکاری ادارے واپڈا کے 426 ارب کے نادہندہ

سرکاری ادارے واپڈا کے 426 ارب کے نادہندہ


قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے توانائی بحران کے اجلاس میں جو چیئرمین عثمان خان ترکئی کی زیرصدارت منعقد ہوا ۔ پانی و بجلی کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سرکاری و نجی ادارے واپڈا کے 426 ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔ وفاق کے ذمہ 7 ارب، صوبائی حکومتوں کے ذمے 93 ارب روپے ہیں۔ آزاد کشمیر کو 19 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ دریں اثنا، پیپکو کی توانائی بحران پر نومبر 2012ءتک کی رپورٹ کے مطابق نادہندگان کی فہرست میں ایوان صدر ، چیئرمین سینٹ کا گھر اور دفتر ، وزیراعظم سیکرٹریٹ ، سپریم کورٹ ، وفاقی شرعی عدالت ، الیکشن کمشن ، وفاقی پولیس ، وفاقی وزراءکی رہائش گاہیں ، پارلیمنٹ لاجز ،آئی بی ، ایف آئی اے ، وزارت ریلوے ریاستوں اور سرحدی علاقوں کی وزارت اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کوئٹہ بھی شامل ہیں۔۔۔۔پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضروریات سے زیادہ ہے لیکن پوری صلاحیت کو بروئے کار نہیں لایا جاتا ۔ کہیں فیول نہ ہونے کی وجہ سے پلانٹس بند ہیں ، کہیں نجی کمپنیاںعد م ادئیگی کی وجہ سے اپنے منصوبے بند کردیتی ہیں تو کہیںبیمار سرکاری پلانٹس کا سرمائے کی کمی کے باعث علاج نہیں ہو پاتا۔آج کل سردیوں میںبجلی کا استعمال اپنی کم ترین سطح پر ہوتا ہے اس کے باوجود سولہ سولہ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ بجلی کے شدید بحران کے پسِ پردہ اصل حقائق حکومت کے پاس اس مد میں سرمائے کی کمی ہے ۔حکومت اسے سرکولر ڈیٹ قرار دیتی ہے، جو اب چار سو ارب روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے ۔حکومتی اداروں کے ذمہ سرکولر ڈیٹ کے برابر بقایا جات ہیں جس کی نشاندہی قومی اسمبلی کی کمیٹی اور ، پیپکوکی رپورٹ میں کی گئی ہے۔سرکاری اداروں کی نادہندگی کا عذاب پوری قوم کو جھیلنا پڑرہا ہے جبکہ نادہند گان کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ تمام اداروں کو ان کی ضروریات کے مطابق بجٹ جاری کیا جاتا ہے جس میں یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی شامل ہے۔بلز کی وصولی کے ذمہ دار عام صارفین کی بجلی ایک ماہ کی تاخیر پر کاٹ دیتے ہیں ۔ کیا ان کے لئے ضروری نہیں ہو گیا کہ عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنانے اور کاروبار تباہ کرنے میں بنیادی کردار اد ا کرنے والے اداروں اور شخصیات کی بجلی بلا امتیاز ان کی حیثیت اور اثررسوخ کے بلوں کی مکمل ادائیگی تک کاٹ دی جائے۔