ریکوڈک کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

ریکوڈک کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ


 سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدہ کالعدم قرار دے کرٹیتھان کمپنی کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے حکومت بلوچستان کی درخواست پر اپنے فیصلہ میں اس معاہدے کو ملکی قوانین اور ملکیت کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔غیر ملکی کمپنی جسے صرف کھدائی کا ٹھیکہ ملا تھا اس نے بلا اجازت قیمتی معدنیات سونے اور تانبا نکال کر کینیڈا،اٹلی اور برازیل کو فروخت کرنے کا ٹھیکہ دوسری کمپنی کو دیا تھا جو غیر قانونی عمل تھا۔ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے 22ارب ٹن کے عظم ذخائر موجود ہیں اور یہ ملکی دولت اگر ایمانداری سے خود حکومت پاکستان نکالے اور اسے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے تو کچھ ہی عرصہ میںملک کی کایا پلٹ سکتی ہے اور ملک کی اقتصادی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ معدنیات ملک و قوم کی ملکیت ہوتے ہیں اور کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کابڑا حصہ ہوتا ہے اس وقت ہمارا ملک بری طرح بیرونی و اندرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہم اقتصادی طورپر بھی بدحالی کا شکار ہیں۔ صوبائی ہویا مرکزی حکومت انہیں چاہئے کہ وہ قدرت کے اس عظیم عطیہ کی قدر کریں اور یہاں سے نکلنے والی اس قیمتی دولت کو ملک کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں۔غیر ملکی کمپنیوںکی بجائے ایمانداری سے یہ کام ملکی کمپنیوں سے لیاجائے ۔کمیشن کے چکروں میں پڑنے اور مال بٹورنے کی بجائے اس منصوبے سے حاصل ہونیوالی آمدنی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور انکو بنیادی سہولتوںکی فراہمی پر خرچ کی جائے۔