ٹربیونل کے فیصلہ کیخلاف حکمران مسلم لیگ (ن) کی سپریم کورٹ میں اپیل اور اسکے مضمرات بہتر ہوتا حکمران انتخاب میں جانے کا سیاسی فیصلہ کرتے

ایڈیٹر  |  اداریہ
ٹربیونل کے فیصلہ کیخلاف حکمران مسلم لیگ (ن) کی سپریم کورٹ میں اپیل اور اسکے مضمرات بہتر ہوتا حکمران انتخاب میں جانے کا سیاسی فیصلہ کرتے

 وزیراعظم محمد نوازشریف کی صدارت میں سیاسی رفقاء اور قانونی ٹیم کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے حلقہ این اے 125کے بارے میں الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا۔ اس فیصلے کے مطابق گزشتہ روز خواجہ سعدرفیق نے ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔اجلاس میں خواجہ سعد رفیق نے خواہش ظاہر کی کہ وہ الیکشن کیلئے تیار ہیں اور عوام کے پاس جانا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال‘ وفاقی اطلاعات و نشریات پرویز رشید‘ رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز‘ سینئر قانون دان اشتر اوصاف علی‘ چودھری طلال ایم این اے نے اجلاس کے حوالے سے پریس کانفرنس میں فیصلے کا اعلان کیا۔
ٹربیونل کے فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں کھلبلی سی مچ گئی‘ یقینی طور پر حکومتی پارٹی ایسے فیصلے کی توقع نہیں کررہی تھی۔ فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے دو دن صلاح مشورے میں گزار دیئے کہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے یا ضمنی انتخاب میں جایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کی نظر میں یہی امکانی فیصلہ ہوتا جو ٹربیونل نے صادر کیا تو فیصلے کے ساتھ ہی پہلے سے طے شدہ لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جاتا۔ فیصلہ توقعات کے برعکس آنے سے وہی لوگ جو عدلیہ کے فیصلوں کے احترام کے دعوے کرتے ہیں‘ ٹربیونل پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ فیصلے کیخلاف حلقہ این اے 125 اور پی پی 155 میں کارکنوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے فیروزپور روڈ سمیت کئی سڑکیں بلاک کردیں۔ میاں نوازشریف کی سربراہی میں چھ رہنمائوں نے وہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پرزور دیا جس کے کچھ مندرجات کو مسلم لیگ (ن) اپنی کامیابی بھی قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی ناکامی سے تعبیر کررہی ہے۔ عدالت جانے کے فیصلے کا پریس کانفرنس بلا کر اعلان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میڈیا کو خبر ریلیز کرنا ہی کافی تھا۔ مسلم لیگ کے لیڈر ہوں یا تحریک انصاف یا کسی اور پارٹی کے انکے دیگر پارٹیوں سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ‘ رویے شائستہ ہونے چاہئیں۔ مذکورہ پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے وہی زبان استعمال کی جس پر یہ لوگ عمران خان کو مطعون کرتے آئے ہیں۔ پرویز رشید تو عمران خان کا نام سامنے آنے پر اپنے آپ میں نہیں رہتے۔ وہ عمران خان کیلئے جھوٹا‘ سازشی اور شرم کریں‘ ایسے الفاظ عموماً استعمال کرتے ہیں جبکہ الطاف حسین نے فوج پر دشنام کی حد کردی۔ اس پر وزیر اطلاعات و قانون عمران ہی کو سازشی قرار دیتے ہوئے کڑوی کسیلی سنانے لگے۔ الطاف کیلئے ایسی بات نہیں کی جو متحدہ کے مزاج نازک پر گراں گزر سکتی تھی جبکہ خواجہ آصف‘ شہبازشریف اور عابد شیرعلی نے بجا طور پر الطاف حسین کے فوج کیخلاف بیان اور ’’را‘‘ سے مدد مانگنے پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔
پریس کانفرنس کرنیوالے لیڈروں کی بوکھلاہٹ واضح تھی۔ احسن اقبال جیسا دانشور بھی اشتعال میں دکھائی دیا اور انکی طرف سے مسلم لیگ (ن) کو ہردلعزیز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے غلط اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر 2013ء میں دھاندلی ہوئی تو بعد میں 30 ضمنی الیکشن میں تو مسلم لیگ (ن) نہیں ہاری۔ ملتان میں (ن) لیگ نے جاوید ہاشمی کی کھل کر مہم چلائی‘ کمک لاہور سے بھی پہنچتی رہی مگر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ جاوید ہاشمی ہار گئے۔ اس سے قبل 7 اکتوبر 2013ء کو فیصل آباد کے حلقہ پی پی 72 میں (ن) لیگ کے امیدوار خواجہ لیاقت پی ٹی آئی کے خرم شہزاد سے ہارے تھے۔ یہ سیٹ مسلم لیگ (ن) کے خواجہ محمد اسلام کی ڈگری جعلی ثابت ہونے سے خالی ہوئی تھی۔ حافظ آباد میں ایک ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی نگہت انتصار بھٹی نے (ن) لیگ کے سرفراز بھٹی کو شکست دی تھی۔ سیاسی مخالفت میں ملک دشمنی کے الزام لگانے سے بھی بڑے قدکاٹھ کے لیڈر گریز نہیں کرتے جبکہ جو واقعتاً ملک دشمنی میں ملوث ہیں ان کیخلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کرنے سے کتراتے ہیں۔
بلاشبہ مسلم لیگ (ن) کو ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا حق حاصل ہے جو اس نے استعمال کیا‘ البتہ سیاست دان سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے خواجہ سعدرفیق کو انکے پرزور اصرار پر میدان میں اترنے کی اجازت دے دیتے تو بہتر تھا۔ مسلم لیگ (ن) سپریم کورٹ تو چلی گئی ہے‘ جہاں سے اسے ریلیف مل سکتا ہے ‘ وہیں اس کیلئے کورٹ جانے کا فیصلہ مزید تکلیف کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے حلقے کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار نہ دیا تو ضمنی الیکشن ہو جائیگا جس کیلئے سعدرفیق پہلے ہی تیار ہیں۔ اس پر شاید Legend قیادت نے غور نہیں کیا کہ تحریک انصاف بھی سپریم کورٹ میں فریق ہو گی۔ ٹربیونل نے کہا کہ تھیلے تیز دھار آلے سے کٹے ہوئے تھے۔ لیکن یہ فراموش کردیا کی کہ الیکشن ٹربیونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے یہ بھی کہا ہے ، متعدد پولنگ سٹیشنز کے ریکارڈ میں فارم 14 اور 15 بھی غائب تھا،درجنوں کائونٹر فائلز پر دستخط بھی موجود نہیں تھے۔ جن پولنگ سٹیشنز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی اس میں متعدد پولنگ سٹیشنز کا ریکارڈ بھی مکمل نہیں تھا۔7پولنگ سٹیشنز کے تھیلے کھلنے کے بعد بڑے پیمانے پر انتخابی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ پانچ پولنگ سٹیشنز کی تحقیقات کے بعد نادرا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے ان پولنگ سٹیشنز میں ایک ایک ووٹر نے اوسطاً چھ چھ ووٹ کاسٹ کئے۔ تھیلوں میں جعلی ووٹ پائے گئے ۔ کل 263پولنگ سٹیشنوں کے نتائج میں آدھے سے زیادہ فارم نمبر 14پر پریذائیڈنگ افسروں کے دستخط تھے نہ نشان انگوٹھا۔ اسے اب تو عملے کی غفلت یا غیرذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ معاملہ اتنا ہی سادہ ہوتا تو ٹربیونل کے جج صاحب اتنا بڑا فیصلہ کیوں دیتے جس سے حکمران پارٹی میںایک حواس باختگی نظر آرہی ہے۔ آپ محض ایک نکتے کو پکڑ کر سپریم کورٹ چلے گئے کہ ٹربیونل نے خواجہ سعدرفیق کو کلیئر قرار دیا اور حامد خان دھاندلی ثابت نہیں کر سکے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ادراک ہونا چاہیے جس کیلئے بہت بڑے وژن کی ضرورت نہیں کہ اگر سپریم کورٹ میں یہ ثابت ہو گیا کہ حلقے میں پلاننگ کے تحت رزلٹ تبدیل ہوا۔باالفرض اس میں خواجہ سعدرفیق کا نام آجاتا ہے تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ کچھ حلقے کہتے ہیں کہ خواجہ سعدرفیق اور انکے بھائی سلمان رفیق کی لاہور میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کچھ لیگی حلقوں کو کھل رہی ہے۔ یہی سپریم کورٹ جانے پر زور دے رہے ہیں اور سپریم کورٹ سے مؤخرالذکر فیصلے کی توقع کررہے ہیں۔ اسے سازشی تھیوری قرار دے کر مسترد کر دیا جائے تو بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور خود خواجہ سعدرفیق کو ذہنی طور پر کسی بھی فیصلے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ بادی النظر میں مسلم لیگ (ن) کا کیس اتنا مضبوط نہیں لگتا کہ سو فیصد سرخرو ہونے کی پیشگوئی کی جا سکے۔ حکمران مسلم لیگ (ن) کو اس وقت بہتر سیاسی فیصلے کی ضرورت تھی اور عدالتی چارہ جوئی کے بجائے انتخاب میں جانے کا فیصلہ ہی اسے سرخرو کر سکتا تھا۔ بہتر ہے حکمران پارٹی اب بھی ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ لے جانے کے فیصلہ سے رجوع کرلے۔