سول سرونٹ ایکٹ شق 10 کالعدم ملازموں کو تحفظ ملنے کی توقع

ایڈیٹر  |  اداریہ
سول سرونٹ ایکٹ شق 10 کالعدم  ملازموں کو تحفظ ملنے کی توقع

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سول سرونٹ ایکٹ کی شق 10 آئین سے متصادم اور کالعدم قرار دے دی گئی۔ سات سول ججوں کو وجہ بتائے اور نوٹس دئیے بغیر برطرف کرنے کیخلاف کیس میں جسٹس سید منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے آئین کی مذکورہ آرٹیکل کے تحت شفاف حق سماعت دئیے بغیر کسی کو نوکری سے کیسے فارغ کیا جا سکتا ہے۔
عدالت عالیہ کے اس فیصلے سے نہ صرف ملازموں کو تحفظ حاصل ہو گا بلکہ معاملات کی چھان بین اور تحقیقات کو بھی ناگزیر سمجھا جائے گا، جہاں تک ملازمین کا تعلق ہے وہ بھی اپنے فرائض دیانتداری اور محتاط روی سے ادا کریں گے تاکہ کوئی سقم ان کی نوکری سے برطرفی کا باعث نہ بنے، علاوہ ازیں ارباب حل و عقد بیک جنبش قلم کسی کی برطرفی سے پہلے اس پر عائد الزامات کا بھی عمیق جائزہ لیں گے تاکہ قانونی تقاضوں سے انحراف باقی نہ رہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں عدل و انصاف کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے، انصاف دینے والے خود عدل کیلئے عدالتوں میں جا پہنچے ہیں تاہم توقع یہ ہے فیصلے اصلاح احوال کی راہیں استوار کرے گا۔