دہشت گردی کی جنگ یکسوئی سے جاری رکھی جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
دہشت گردی کی جنگ یکسوئی سے جاری رکھی جائے

کرم ایجنسی میں سکول گرائونڈ میں فٹ بال کھیلتے بچوں پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی سکیورٹی اہلکاروں کے روکنے پر ایک بمبار نے خود کو اڑا لیا۔ جبکہ دوسرے کی جیکٹ فورسز کی فائرنگ سے پھٹ گئی۔ 2 قبائلی جاں بحق 10 زخمی ہوئے۔ دوسری طرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی مکمل خاتمہ ہو گا۔
پاک فوج نے جس تیزی کے ساتھ ضرب عضب آپریشن شروع کر رکھا ہے اس سے یقینی طور پر دہشت گردی کی وارداتیں کم ہوئیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کو منہدم کرکے وہاں امن قائم کرنے میں کافی کامیابی ملی ہے۔ ضرب عضب آپریشن شروع کرنے سے قبل لوگوں نے قیاس آرائیاں کی تھیں کہ شمالی وزیرستان کو آج تک کوئی فوج فتح نہیں کر سکی۔ دہشت گردوں کے حواریوں نے کہا تھا کہ پاک فوج اس دلدل سے نکل نہیں پائے گی لیکن آرمی چیف کی پرعزم قیادت، فوجی جوانوں کے غیر متزلزل جذبے عوام کی حمایت اور دعائوں سے پاک فوج نے کامیابیاں سمیٹ کر سب کے منہ بند کر دئیے ہیں۔ ضرب عضب آپریشن نے قوم میں ایک حوصلہ پیدا کیا ہے۔ پہلے دہشت گرد کو دیکھ کر عوام بھاگ جاتے تھے اب خودکش بمبار کو بھی دیکھ کر مقابلے کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی سکیورٹی اہلکاروں نے بمبار کو فائرنگ کرکے مارا ہے۔ خدانخواستہ اگر دونوں بمبار گرائونڈ میں گھس آتے تو کس قدر قیامت برپا ہوتی۔ لیویز اہلکاروں کی جرأت کو سلام کہ انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کو ایک اور سانحے سے بچا لیا ہے۔ آرمی چیف تو دہشت گردوں کے خاتمہ کے بارے میں بہت پرعزم نظر آتے ہیں اور وہ اس ناسور کو ختم کرنے کیلئے کمربستہ ہیں۔ حکومت کو دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انکے سہولت کاروں، ان کیلئے نرم گوشہ رکھنے والوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ کو یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھا کر ہی اسے جیتا جا سکتا ہے لہٰذا دہشت گردی کیخلاف جاری آپریشن کا دائرہ بڑھا کر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بھی ختم کیا جائے۔