خواتین کے حقوق کا عالمی دن

ایڈیٹر  |  اداریہ
خواتین کے حقوق کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پنجاب اسمبلی نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے 5 قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔
اسلام خواتین کے حقوق کا علمبردار کا ہے۔ نبی کریمؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر بھی خواتین کے حقوق پر زور دیا تھا۔ بحیثیت اسلامی ملک کے ہمارے ہاں خواتین کے حقوق کی پاسداری کی جانی چاہئیے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ خواتین کے حقوق کا استحصال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں خواتین کی آبادی 9 کروڑ کے قریب ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، تیزاب پھینکنا اور جنسی طور پر ہراساں کرنا دیگر ممالک کی نسبت ہمارے ہاں زیادہ ہے۔ ہم عورت کو معاشرے کا حسن، وقار اور استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ ظلم بھی اسی پر کرتے ہیں۔ وراثت میں محرومی کم عمری میں شادی جائیداد ہتھیانے کیلئے قرآن کے ساتھ شادی، سوارا، غیرت کے نام پر قتل جیسی قبیح اقدامات اور رسومات عام ہیں، یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک کروڑ لڑکیوں کی شادیاں کم عمری میں کی جاتی ہیں جب کہ پاکستان سب سے بڑے صوبے پنجاب کے جنوبی حصے میں یہ شادی باقاعدہ ایک رواج بن چکی ہیں۔ محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دوران زچگی ہر 20 منٹ کے دوران ایک خاتون موت کے منہ میں چلی جاتی ہے اور اسکی تعداد پاکستان میں زیادہ ہے۔ حکومت پاکستان کی اپنی رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ لڑکیاں سکول جانے سے محروم ہیں پاکستان میں خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے قومی کمیشن برائے خواتین بل 2011ء پاس کیا گیا تھا جس کے مطابق ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس کا کام ملک بھر میں خواتین کے ساتھ زیادتیوں کا ازالہ کرنا تھا۔ تمام صوبائی اور وفاقی محکموں کو اسکے ساتھ تعاون کا پابند بنایا گیا تھا لیکن حقیقت میں اس پر عملدرآمد نظر نہیں آ رہا۔ خواتین کے عالمی حقوق کے دن کے موقع پر حکومت پنجاب نے اب وراثتی جائیداد کی طلبی کے سمن مردوں کے علاوہ خواتین کو بھی وصول کرانے، نکاح نامہ کے تمام کالم پر کرنے، پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسرا نکاح کرنے، 16 سال سے کم عمر بچیوں کی شادیاں کرنے اور بیوی بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے فیملی کورٹ کارروائی کو آسان بنانا جیسے اقدامات شامل ہیں یہ خوش آئند ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔